اس کو برباد کردیگا۔
اگر آپ غور کریں تو نوے فیصد لوگ صحیح طور پر یہ نہیں جانتے کہ وہ اپنے وقت کا زیادہ حصہ کہاں اور کیوں صرف کرتے ہیں ،فرینکلن نہایت محنتی انتھک کام کرنے والا،ازحد پابند اوقات اور ایک بھی وقت ضائع نہ کرنے والا انسان تھا،اپنے کھانے اور سونے کے لئے کم سے کم جو وقت دے سکتا تھا وہ دیتا تھا۔وقت کی قدر کریں اور وقت کو غنیمت جانیں ۔اللہ ہم سب کو وقت کی قدر کرنے اور فضولیات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔
(اسلام اور ہماری زندگی۲۹۵؍۲)
خود فراموشی اور خدا فراموشی
لوگ سالِ نو کی خوشیاں مناتے ہیں لیکن غور کیجئے تو یہ موقع خوشی سے زیادہ غم کا ہے، یہ ساعت جشن ومسرت نہیں ، بلکہ لمحہ عبرت وموعظت ہے، کیونکہ سال کے گذرنے سے عمر بڑھتی نہیں ہے، بلکہ عرصۂ حیات تنگ ہوتا جاتا ہے اور مقررہ عمر میں کمی ہوجاتی ہے، اس لئے سالِ نو کی آمد غفلت شعار طبیعتوں کے لئے صورِ انتباہ اور سونے والوں کے لئے بیداری کا الارم ہے، نہ کہ سرمستی وعیش کوشی کا پیغام؛یہ وقت ہے کہ ایک مومن کی پیشانی خدا کی چوکھٹ پر خم ہوکہ تونے میرے بہت سے ہم عمروں کو اٹھالیا اور مجھے اپنی مہلت سے سرفراز کیا ہے، اس لئے تیرے دربار میں شکر وامتنان کے جذبات پیش کرتا ہوں ، یہ وقت ہے کہ خدا کے حضور التجا والحاء کے ہاتھ اٹھیں ، کہ خدایا میرے مستقبل کو میری ماضی سے بہتر فرما، میری نامرادیوں کو کامیابیوں سے اور میری پستیوں کو بلندیوں سے بدل دے، خاص کر مسلمان اس وقت پورے عالم میں خدا سے غفلت شعاری اور دنیا اور متاعِ دنیا کی محبت کی جو سزا پارہے ہیں اس پس منظر میں پوری امت کو عالم اسلام اور مقامات مقدسہ کی حفاظت کی دعاء کرنی چاہئے۔
لیکن افسوس اور ہزار بار افسوس! کہ عبرت پذیری اور موعظت انگیزی کی اس ساعت کو بھی ہم نے عیش کوشی، خود فراموشی اور خدا فراموشی کی ساعت بنالیا ہے، اس موقع سے رقص وسرور کی محفلیں سجائی جاتی ہیں ،تفریح گاہوں اور پارکوں کے کھلے عال بے حیائی کے مناظر