دیکھے جاتے ہیں ،اور جن بیہودہ حرکات وسکنات کے لئے کبھی اہلِ مشرق اہلِ مغرب کو شرم وعار دلاتے تھے اب خود مشرق اس بے حیائی کی دوڑ میں زیادہ سے زیادہ آگے بڑھنے کو مضطرب ہے، کیا کسی شریف انسان کے لئے اس طرح کھلے عام بادۂ ساقی سے ہم دہن وہمکنار ہونا زیبا ہے؟ اور کیا مسلمانوں کے لئے اس خود فراموشی اور غفلت کوشی کا کوئی موقع ہے؟ جس قوم کا قبلۂ اول اس کے ہاتھوں سے نکل چکا ہو، عالم اسلام کے قلب وجگر تک دشمن کی رسائی ہوچکی ہو جس کی عبادت گاہ بلاکسی دلیل اور جواز کے زمین بوس کردی گئی ہو، جس کا لہو گجرات کے چپہ چپہ سے ایسا ٹپک رہا ہے جیسے موسم سرما میں کہر، ایسی مظلوم اور ستم رسیدہ اور ذلت ونکبت کی سرحدوں پھر کھڑی امت کے لئے خوشی کے شادیانے بجانے اور عیش ونشاط کے شانے بجانے کا کوئی بھی موقع ہے؟؟فاعتبروا یاأولی الابصار!
(نقوش وموعظت۱۵۴:)
بابِ دوم
قمری تاریخ کی شرعی اہمیت
جیسا کہ معلوم ہوا ، محرم الحرام اسلامی کیلنڈر کا سب سے پہلا مہینہ ہے جس طرح انگریزی کیلنڈر کا پہلا مہینہ جنور ی ہے، مگر ہم میں سے اکثر لوگ انگریزی تاریخ اور اس کی ابتداء وانتہاء سے تو واقف ہوتے ہیں مگر اسلامی تاریخ اور اس کی ابتداء وانتہاء سے جاہل وغافل رہتے ہیں ، بسا اوقات محرم الحرام کا مہینہ آتا اور چلاجاتا ہے اور بہت سے مسلمانوں کو اس کی خبر بھی نہیں ہوتی، اس کے برعکس جب جنوری کا مہینہ آتا ہے اور اس کی پہلی تاریخ ہوتی ہے تو سب کو اس کی اطلاع ہوتی ہے اور اس کاچرچا سبھی میں ہوتا ہے، کیا عیسائی، کیا مسلم، کیا ہندو اور کیا مجوسی، سبھی اس میں دلچسپی لیتے ہیں ، یہاں غیروں سے بحث نہیں اور نہ ان سے شکایت، شکایت تو اپنوں کی ہے کہ انکو غیروں کی تاریخ سے تو اتنی دلچسپی ہے لیکن اپنی اسلامی تاریخ سے اس قدر غفلت؟ حالانکہ اسلامی تاریخ سے واقفیت ضرور ی ہے اور شرعاً اس کی