حکم:مطلق پر بلا قید کے عمل کیا جا ئے گا، اور مقید پر قید کے ساتھ ۔ لیکن اگر حکم اور محکوم علیہ ایک ہی ہو تو مطلق کو مقید کر دیا جائے گا ۔
حکم کی وضاحت: قرآن کریم میں دو آیتیں ہیں : ایک مطلق ۔دوسرے مقید۔ مطلق آیت: ’’حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَ الدَّمُ‘‘ہے، ا س میں ’’الدَّم‘‘خون مطلق ہے۔ مقید آیت ’’اِلاَّ اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْ دَمًا مَسْفُوْحًا ‘‘ہے ، ا س آیت میں ’’دَمًا مَسْفُوْحًا‘‘ مقید ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں آیتوں میں ایک ہی حکم لگایا گیا ہے: یعنی خون حرام ہے، اور جس پر حکم لگا ہے وہ دونوں آیتوں میں ایک ہے یعنی خون۔ تو خون محکوم علیہ ہے وہ بھی ایک، اور حرام ہو ناحکم ہے وہ بھی ایک، لہٰذا اس طرح کے مقام میں مطلق والی پہلی آیت کو دوسر ی کے ساتھ مقید کریں گے ۔
’’امر ‘‘
امر کی تعریف : ایسا لفظِ خاص جوفعل ( کوئی بھی کام) طلب کرے اور طلب کرنے والا بڑ ا ہو ۔
مثال : آیت شریفہ ہے: اَقِیْمُوْا الصَّلوٰۃَ ، نماز قائم کر و۔
تشریح: اِس آیت میں نماز کے فعل کو طلب کیا ہے اور طلب کرنے والا اللہ ہے جو بڑا بل کہ سب سے بڑا ہے ۔
حکم : امر اگر قرینہ سے خالی ہو تو احنافؒ کے نزدیک اس پرعمل کر نا واجب ہے، اسی طرح اگر امر میں تکرار کا قرینہ موجود نہ ہو تو وہ فعل ایک ہی مر تبہ واجب ہوگا ۔
وضاحت: اس حکم کی تشریح یہ ہے کہ جب کسی سے کہا،کہ نماز پڑھو۔ تو فعلِ نماز واجب ہوگا، کیوں کہ یہاں کوئی قرینہ نہیں ہے، ایسے ہی تکرار کا بھی کوئی قرینہ نہیں ہے ، اس لیے ایک ہی بار اداکرنا واجب ہوگا ۔