میں آجائے گا، تو لفظِ ’’سارق‘‘ اس معنی کے لیے ظاہر ہے۔
اب دیکھیے ایک لفظ ہے ’’طراز‘‘ جیب کترا۔ دوسرا لفظ ہے ’’نبّاش‘‘ کفن چور۔
طراز کا کام یہ ہے کہ مالک کی موجودگی میں مال جھٹ سے لے لیتا ہے، اور نباش کا کام یہ ہے کہ قبروں سے کفن نکال لاتا ہے۔
ان دونوں معنی میں غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ طراز مالک کی موجودگی اور بیداری میں مال لیتا ہے تو ’’سارق‘‘ سے زیادہ مفہو م ( لینے کا) اس میں موجود ہے اسی بنا پر اس کا نام بھی طرّاز الگ سے رکھ دیا گیا۔
اور ’’نباش‘‘ مردے سے اس کا کفن اٹھا لاتا ہے تو اس میں مفہوم اخذ کچھ کم اور ہلکا ہوگیا، اسی لیے اس کا نام بھی الگ ’’نباش‘‘ رکھ دیا گیا۔
خفی کا حکم: اس بات میں غور کریں کہ ’’معنی کی پوشیدگی‘‘ معنی میں کسی کمی کی بنا پر ہے یا زیادتی کی بنا پر، اگر معنی میں پوشیدگی زیادتی کی بنا پر ہے تو ظاہر آیت/نص کا حکم اس پر بھی لاگو کریں گے، ورنہ نہیں ۔
چناں چہ ’’طراز‘‘ میں زیادتیٔ معنی ہے، لہٰذا اس پر ظاہر آیت کا حکم ’’ہاتھ کا ٹنا‘‘ نافذ کریں گے، اور ’’نباش‘‘ میں معنی کی کمی ہے، تو ’’ہاتھ کاٹنے کا حکم نہیں لگائیں گے۔
مشکل:ایسا لفظ ’’مشکل‘‘ کہلاتا ہے جس کا معنیٔ مرادی اسی لفظ کے صیغے کی وجہ سے پوشیدہ ہو ( ۱) ۔
قرآن کی آیت ہے: ’’وَالْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْئٍ‘‘ ۔
تشریح:اس آیت میں لفظ ’’قروء‘‘ کو دیکھیے، یہی لفظ ’’مشکل‘‘ کہلاتا ہے، یہ جمع ہے، اس کا واحد ’’قَرئٌ‘‘آتا ہے، ’’قَرئٌ‘‘کے دو معنی ہیں : ایک حیض، دوسرے طہر ( پاکی) ۔اب
-----------------------------------------------------------------------
( ۱)بایں طور کہ لفظ کے دو معنی ہیں ، کسی ایک معنی کو لفظ متعین طور پر نہ بتلائے جیسا کہ مشترک الفاظ میں ہوتا ہے، بل کہ الگ سے کسی قرینے کی بنا پر ہی کوئی ایک معنی متعین ہوسکے۔