عبارت النص
تعریف:عبارت النص ایسا کلام ہے جو ایسے معنی بتلائے جس کے لیے سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت نہ ہو اورکلام کو اسی معنی کے لیے لایا گیا ہو۔
مثال:فَانْکِحُوْا مَا طاَبَ لَکُمْ مِنَ النِّسائِ مَثْنٰی وَثُلَاثَ وَرُبَاع۔
تشریح:یہ قرآن شریف کی آیت ہے، ترجمہ یہ ہے:
’’تم اپنے پسند کی عورتوں سے شادی کرو، دو دو،اورتین تین، اورچارچار‘‘۔
اس آیت میں دو بات معلوم ہوئی:
۱۔نکاح جائز ہے۔ ۲۔منکوحہ کی تعداد متعین ہے کہ ۴؍ سے زیادہ نہیں ۔
انہیں دونوں باتوں کے لیے آیت کولایاگیا، لہٰذا آیت ’’عبارت النص‘‘کہلائے گی۔
اشارت النص
تعریف:اشارۃ النص، کلام کا وہ معنی ہے جو التزامی طورپر سمجھاجائے۔ یعنی ایسا کلام جو ایسے معنی بتلائے جس کے لیے کلام کو بولا نہ گیا ہو، اور الفاظ سے جلدی وہ معنی ذہن میں بھی نہیں آتے بل کہ کچھ سوچیں پھرآتے ہیں ۔
مثال:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: لِلْفُقْرَائِ الْمُہَاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ۔
( الآیۃ: الحشر)
وضاحت: اس ارشادِ باری میں بتلایا گیا ہے کہ مالِ غنیمت ان مہاجرین فقرا کا حق ہے جنہیں ان کے گھروں سے باہر نکال دیاگیا ہے ،اسی غنیمت کے حقدار بتانے کے لیے قرآن