حرام پر عمل کرنے والا بغیر کسی عذر شرعی کے فاسق کہلائے گا۔
مکروہ تحریمی :جس عمل سے شریعت نے ’’ دلیل ظنی ‘‘ سے حتمی طور پررکنے کو کہا ہو وہ ’’ مکروہ تحریمی‘‘ کہلاتا ہے ۔
مکروہ تحریمی کا حکم: اس پر عمل کرنے سے لازمی طور پر رکنا، بلا عذر اس کو کرلینے سے آدمی فاسق ہوجاتا ہے، البتہ اس پر اعتقاد ضروری نہیں ہے ، لہٰذا اس کی حرمت کے منکر کو کافر نہیں کہیں گے۔
مثال : مردو ں کے لیے ریشم کا لباس پہننا، یہ مکروہِ تحریمی ہے، بلا عذر ریشمی لباس پہننے والا فاسق ہو جائے گا، البتہ اس کا منکر کا فر نہ ہوگا ۔
مکروہ تنزیہی : جس عمل سے شریعت نے غیر حتمی طور پر روکا ہو، وہ ’’مکروہ تنزیہی ‘‘ کہلاتا ہے۔
حکم : مکروہِ تنزیہی جو بھی عمل ہو اس کا ترک اولیٰ او ر بہتر ہے ۔
مثال: سجدہ گاہ سے کنکریاں یا گرد وغبار ایک مرتبہ ہٹانا ۔
مباح : جس فعل کے کرنے یانہ کرنے کا شریعت نے اختیار دیا ہو اس کو ’’مباح ‘‘ کہتے ہیں ۔
مثال: قرآن کی آیت ’’وَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا‘‘ ( اور جب تم احرام کھول کر حلال ہو جاؤ تو شکار کرو)۔ مباح کی مثال ہے ۔ اس آیت میں شکا ر کا حکم ہے، جو اباحت کے لیے ہے، یعنی اختیار ہے کہ شکا ر کرو یا نہ کرو ۔
مباح کا حکم : یہ ہے کہ اس پر عمل کرنے والا ثواب کا حقدار نہیں ہوتا، اسی طرح عمل نہ کرنے والا عقاب / سز ا کا بھی مستحق نہیں ہوتا ۔