عزیمت اور رخصت
بندہ جن احکام کا مکلف ہے، ان کی دو قسمیں ہیں :
۱۔عزیمت ۲۔رخصت
عزیمت: وہ احکام جو بندے کے عذرو ں پر موقوف نہ ہو ں اور ابتداء ً مشروع ہوں وہ ’’عزیمت ‘‘ کہلاتے ہیں ۔
مثال :قرآن کریم میں ہے : فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ ۔ تو جو لوگ تم میں سے ( رمضان کے ) مہینے کو پالیں تو وہ اس میں رو زے رکھیں ۔
وضاحت: اس آیت میں روزہ کاحکم ہے ،یہ عذر پر موقوف نہیں ہے ، ابتداء مشروع ہے، لہٰذا یہ حکم’’ عزیمت ‘‘ ہے ۔
ٍرخصت:جو عمل حکم اصلی سے کسی عذر کی بنا پر بدل گیا ہو وہ’’رخصت‘‘کہلاتاہے۔
مثال:مجبوری اور زبردستی کے موقع پر کلمۂ کفر بولنا،جب کہ دل میں ایمان موجود ہواور اطمنان ِقلب ہو۔
رخصت کی اقسام:بندوں کے عذر بہت ہوتے ہیں ،جس کی وجہ سے رخصت کی قسمیں بھی بہت ہوسکتی ہیں ،لیکن انجام کے لحاظ سے دو قسمیں بنتی ہیں :
( ۱)رخصت ِفعل ( ۲)رخصت ِتغییرِ صفت
رخصت فعل: ایسی رخصت ہے جس میں فعل کی حرمت باقی رہتی ہے،البتہ اس فعل کو کرلینے کی اجازت ہوتی ہے۔
مثال : کلمۂ کفرکی زبان سے ادائیگی ۔
وضاحت :کلمۂ کفر زبان سے اداکرنا حرام ہے،کسی کے قتل کی دھمکی کے وقت کلمۂ کفر