زبان سے اداکرنے کی اجازت ہوتی ہے،البتہ کلمۂ کفر ادا کرنے کی حرمت باقی رہتی ہے۔ جیسے کہ عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوکافروں نے کلمۂ کفر بکنے پر مجبور کردیا تھا، تو انہوں نے مجبوراً ایسا کیا، لیکن ان کے والد یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کو کلمۂ کفر کہنے پر مجبور کیا گیا تو انہوں نے نہیں کہا اور شہادت کو ترجیح دی۔
توعمارؓ نے اجازت پر /رخصت پر عمل کیا اور والد نے عزیمت پر عمل کیا کیوں کہ حرمتِ فعل باقی تھی۔
رخصتِ تغییرِ صفت :ایسی رخصت ہے جس میں فعل کی حرمت آدمی کے لیے ختم ہوجاتی ہے اور حرام شی اس کے حق میں مباح ہوجاتی ہے۔
مثال :بے تحاشا بھوک کہ آدمی کی جان نکل جائے۔اس حالت میں آدمی کے لیے’’خنزیر کا گوشت ‘‘اور’’مردار‘‘۔
وضاحت : خنزیر کا گوشت اورمردار حرام ہے،اب اگر شدید بھوکا شخص کہ جان نکل جانے کا خطرہ ہو، اور اس کے پاس اور کوئی کھانا موجود نہ ہو تو خنزیر کاگوشت اور مردار اس کے حق میں حلال ہوجاتا ہے،پہلے اس گوشت میں حرام ہو نے کی صفت تھی اور وہ صفت ہی بدل گئی،اب گوشت میں حلال ہونے کی صفت آگئی۔لہٰذا اب اس شخص کے لیے مردارکاگوشت کھاکر جان بچانا ضروری ہے،اگر گوشت نہیں کھایا اور مرگیا تو خود کو مارنے والا اور خود کشی کرنے والا کہلا ئے گا اور گنہ گار ہوگا۔