حکم وضعی
چند صفحات پہلے آچکا ہے کہ ’’حکم شرعی ‘‘کی دوقسمیں ہیں :
۱؍حکم تکلیفی ۲؍حکم وضعی
حکم تکلیفی کی تعریف اور اس کی ’’سات قسمیں ‘‘پھر حکم تکلیفی کی دوقسم رخصت اور عزیمت، بیان ہوچکیں ۔اب ’حکم وضعی ‘‘کا بیان آرہاہے۔
حکم وضعی :حکم وضعی وہ ہے جوکسی شئ کو دوسری شئی کے لیے سبب ،یا شرط ،یا مانع بنانے کا تقاضا کرے ۔ لہٰذا اس تعریف کی روشنی میں تین احکام معلوم ہوئے :
۱؍سبب ۲؍شرط ۳؍مانع
سبب :سبب ایک ایسا منضبط امر ظاہر ہے کہ جس کو شریعت نے کسی حکم شرعی کے لیے علامت بنایا ہے ، وہی حکم شرعی ’’مسبب‘‘کہلاتاہے ۔
سبب کے پائے جانے سے مسبب پایا جاتاہے ،اور اس کے نہ پائے جانے سے مسبب نہیں پایا جاتا۔
مثال :سورج کا ڈھلنا،یہ سبب ہے ، نماز ظہر کا فرض ہونا:یہ مسبب ‘‘ہے اس مسبب کو ’’حکم شرعی‘‘کہتے ہیں ۔
شرط:شرط وہ ہے کہ جس کے نہ پائے جانے سے حکم کا نہ پایا جانا ضروری ہو ، اور اس کے وجود سے حکم کاوجود لازم نہ ہو ۔
مثا ل: وضو، یہ نماز کے لیے شرط ہے ۔
وضاحت :اس مثال میں نماز ایک’’حکم ‘‘ہے ،اور ’’وضو‘‘شرط ہے ،اگر ’’وضو‘‘نہ پایا جائے تو نماز نہیں پائی جائے گی ، یہ بات قطعی اور ضروری ہے اور ’’ وضو ‘‘ اگرپایا جائے تو ضروری نہیں