یہ اصولِ فقہ کے اجزا ’’اصول‘‘ اور’’ فقہ ‘‘ کی تعریفات ہوئیں ، اس کو’’ حدِ اضافی‘‘ کہتے ہیں ۔
اصول فقہ: یہ ایسا فن ہے جس کے قواعد کی مدد سے شریعت کے احکام ان کے دلائل کے ساتھ معلوم ہو تے ہیں ۔ اس تعریف کو ’’حدِ لقبی‘‘ کہتے ہیں ۔
موضوع:شرعی دلائل جو احکام بتلائیں ۔
شرعی دلائل: شرعی دلائل چار ہیں ( ۱) :
۱؍کتاب اللہ ۲؍سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۳؍اجماع ۴؍قیاس
-------------------------------------------------------------------
( ۱)احکام شرعیہ کے دلائل صرف چار ہیں : ۱)قرآن۔۲)سنت۔ ۳)اجماع۔ ۴)قیاس۔ ہر عمل کا حکم شرعی انہیں چار میں کسی نہ کسی دلیل سے ثابت ہوتا ہے، یعنی انسان کے کسی بھی عمل کے متعلق یہ بات کہ وہ فرض ہے، یا واجب ہے، یا مندوب، یا مباح، یا حرام، یا مکروہ، ثابت کرنے کا ذریعہ یا تو قرآن حکیم ہے، یا سنت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم، یا اجماع، یا قیاس، ان کے علاوہ حکم شرعی ثابت یا مستنبط کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ۔ ان چاروں دلائل کا مختصر تعارف یہ ہے:
قرآن کریم: قرآن حکیم کے نام یوں تو بعض علمائے کرامؒ نے نوے سے اوپر بتائے ہیں ، مگر مشہور نام جو خود قرآن پاک نے بتائے پانچ ہیں : القرآن، الفرقان، الکتاب، الذکر، التنزیل۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور نام ’’القرآن‘‘ ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس کتاب کو کم از کم ۶۱؍ مقامات پر اسی نام سے یاد کیا ہے، مگر اصول فقہ کی کتابوں میں جس نام کا زیادہ استعمال ہوا وہ ’’الکتاب‘‘ ہے، جس کی وجہ شاید یہ ہو کہ قرآن نے سورۂ فاتحہ کے بعد سب سے پہلی سورت کے بالکل شروع میں اپنا ہی نام بتایا ہے! ذلک الکتاب لاریب فیہ۔ یہ کتاب ایسی ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ۔ ( فقہ اور تصوف:ص۳۸،۳۹،مفتی رفیع عثمانی مدظلہ)
قرآن کریم کی اصطلاحی تعریف :’’التلویح مع التوضیح‘‘ میں یوں کی گئی ہے: قرآن اللہ کا وہ کلام ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر لفظ بہ لفظ نازل ہوا۔ مصاحف میں لکھا گیا،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر کسی شبہ کے تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ ( التوضیح مع التلویح:ص۲۶/۱، مصر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی بھیجی گئی وہ دو قسم کی تھی۔ ایک تو یہی قرآن حکیم جس کے الفاظ اور معنی دونوں اللہ جل شانہ کی طرف سے ہیں ۔ یعنی جس طرح اس کے مضامین اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں ، اسی طرح اس کے الفاظ بھی بعینہٖ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئے ہیں ۔
اس وحی کو ’’وحی متلو‘‘ کہتے ہیں ۔ وحی کی یہ قسم پوری کی پوری حفاظ کے سینوں میں اور قرآنی مصاحف میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کردی گئی ہے دوسری قسم وحی کی وہ ہے جوقرآن پاک کا جز بناکر نازل نہیں کی گئی ، اس کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ سلم کو بہت سی تعلیمات اور شریعت کے احکام اس طرح بتلائے گئے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ سلم کے قلب مبارک پر صرف معانی ومضامین کا القا ہو تا تھا الفاظ اس کے ساتھ نہیں ہوتے تھے ان معانی ومضامین کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے کبھی تو اپنے الفاظ کے ذریعہ کبھی اپنے افعال کے ذریعہ ، اور کبھی دونوں سے بیان فرمایا۔وحی کی اس قسم کا نام ’’ وحیٔ غیر متلو‘‘ ہے ۔اسی وحی کو حدیث اور سنت کہا جاتا ہے۔
سنت :لفظ ’’سنت‘‘ لغت عرب میں طریقہ اور عادت کے لیے اور فقہ میں ایسی عبادت کے لیے استعمال ہوتاہے جو فرض یا واجب نہ ہو اور علم حدیث اورا صول فقہ کی اصطلا ح میں ’’حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کو حدیث کہا جاتا ہے‘‘ یہاں یہی اصطلاحی معنی مراد ہیں ۔ سنت اور حدیث میں فرق یہ ہے کہ حدیث تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کانام ہے اور سنت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال دونوں کانام۔