باب اول:
کتاب وسنت
کتاب :کتاب سے مراد، قرآن کریم ہے ۔
تعریف: کتاب اللہ، وہ الفاظ ِعربیہ جو سرکار ِدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذ۱تِ گرامی پر نازل کیے گیے اور بغیر کسی ہلکے شبہے کے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر ( تسلسل)کے ساتھ نقل کرکے ہم تک پہونچے ۔
خصوصیت: قرآن یعنی کتاب اللہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے الفاظ اور معانی، اللہ کی طرف سے آئے ہیں ،رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پڑھ کر،اس کی تبلیغ فرمائی ہے۔
اگر صرف معانی اللہ تعالیٰ رسول کے دل میں ڈالے، الفاظ ان کے ساتھ نہیں اُتارے، الفاظ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن معانی کو پہنائے تو انہیں قرآن نہیں ، بل کہ سنت کہتے ہیں ۔
سنت:حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات قولی یا فعلی یا تقریری طور ـپر ثابت ہو، اس کو ’’سنت‘‘ کہتے ہیں ۔سنت کی تین قسمیں ہیں :
( ۱)سنتِ قولی ( ۲)سنتِ فعلی ( ۳)سنتِ تقریری
تعریفات:
( ۱) وہ باتیں جو نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے نکلی ہوں ، وہ ’’سنتِ قولی ‘‘ کہلاتی ہیں ۔
( ۲) محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال ’’سنتِ فعلی‘‘ ہیں ۔
( ۳) جو کام ذاتِ اقدس کی موجود گی میں کیا گیا اور آپ نے اس پر خاموشی اختیا ر کی، یا موافقت فرمائی، یا تعریف کی ،اُسے ’’سنتِ تقریری‘‘ کہتے ہیں ۔