٢) وطی-(الف)خواہ عقدِ صحیح کے بعد ہو (ب) یا عقدِ فاسد وباطل کے بعد ہو (ج) یا زنا ہو۔
تفصیل
(الف)عقدِ صحیح کے بعد وطی کے متعلق ائمہ کا اجماع ہے کہ حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی۔
(ب) عقدِ فاسد وباطل کے بعد وطی ہو تو اس میں بھی اجماع ہے کہ حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی۔
(ج)زنا کے متعلق حضرت امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ اور حضرت امام احمد رحة اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ اس سے بھی حرمت ثابت ہو جائے گی، اگرچہ دونوں اماموں کی شرائط میں معمولی اختلاف۔۱؎ ہے ، مالکی حضرات کے یہاں دو قول ۲؎ ہیں، لیکن معتمد قول عدمِ حرمت کا ہے ۳؎ ، امام شافعی رحمة اللہ علیہ کے نزدیک زنا سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ، وبقولنا قال مالک فی روایۃ، واحمد خلافا للشافعی ومالک فی اخری (فتح ابن ہمام)
==============================
(بقیہ صفحہ ۱۴کا)(قولہ نکاحافاسدا) ھی المنکوحۃ بغیر شہود ونکاح امراۃ الغیر بلاعلم بانہا متزوجۃ، ونکاح المحارم مع العلم بعدم الحل فاسد عندہ خلافا لہما۔
۱؎ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب کے لئے دیکھئے کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ۔
۲؎ ابن العربی، مالکی (مصنف احکام القرآن وشرح ترمذی) ثبوتِ حرمت کے قائل ہیں ان کی احکام القرآن میں آیات متعلقہ کی تفسیر دیکھیں
۳؎ کتاب الفقہ ١٢