کی ،پھر انہیں کے طرز پر مولوی عبدالرزاق کانپوری نے اپنی تاریخی کتابیں لکھیں ، جن میں البرامکہ (۱۸۹۷) کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی ۔ پھر مولانا سید سلیمان ندوی اور دیگر رفقائے دارالمصنفین نے جدید تاریخ نگاری کی اس روایت کو مزید فروغ واستحکام بخشا ۔ قاضی صاحب ان کتابوں سے ناواقف نہ تھے ،بلکہ جیسا کہ انھوں نے اپنی خود نوشت میں تصریح کی ہے ، وہ دور طالب علمی ہی میں دارالمصنفین کی بیشتر کتابوں کا مطالعہ کر چکے تھے،ا س لئے یقین ہے کہ ایک صاحب بصیرت اور باشعور قاری کی طرح اپنے پیش رو مصنفین کے اسلوب نگارش اور انداز تحریر سے وہ متاثر اور فیض یاب بھی ہوئے ہوں گے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انھوں نے کسی خاص مصنف یا کسی خاص تصنیف کو سامنے رکھ کر اس کا چربہ اتارنے کی کوشش ہرگز نہیں کی، بلکہ موضوع اور مواد اور ہیئت واسلوب ہر دو لحاظ سے شعوری طور پر اپنی راہ الگ نکالنے کی سعی بلیغ کی اور اس باب میں خود اپنے ذوق اور مطالعے کو اپنا ہادی اور رہنما بنایا ۔ بقول میر تقی میرؔ ؎
دلیل اس بیاباں میں دل ہی ہے اپنا نہ خضر و نہ بلدیاں ، نہ رہبر نہ ہادی
اس بیان کی صداقت کا اندازہ لگانے کیلئے مولانا سعید احمد اکبرآبادی کی محققانہ اور گراں مایہ تصنیف ’’صدیق اکبر ‘‘ کا مطالعہ علامہ شبلی کی ’’الفاروق‘‘ کو سامنے رکھ کر کرنا چاہئے ۔ اگر چہ مولانا اکبر آبادی نے ’’الفاروق‘‘ اور اس کے مصنف کا کہیں حوالہ نہیں دیا ہے ۔ لیکن پھر بھی صاف محسوس ہوتا ہے کہ’’صدیق اکبر‘‘ الفاروق کا مثنیٰ ہے ۔ اس کے برخلاف قاضی صاحب کی کسی کتاب پر کسی سابق مصنف کی مماثلت کا گمان نہیں گذرتا ۔ یہی نہیں بلکہ بحیثیت مورخ ومصنف انھوں نے متعدد خصائص وامتیازات بھی قائم کئے ہیں جنہیں اجمال و اختصار کے ساتھ ہم آئندہ صفحات میں پیش کرتے ہیں ۔
(الف): جس عہد اور جس طرز کی تاریخ نگاری کا انھوں نے بیڑہ اٹھایا اور اسے پایۂ تکمیل تک پہونچایا ہے ،ا س باب میں وہ سباق غایات ہیں ۔ اب تک ان کے انجام دئیے ہوئے کارناموں کے کسی پہلو پر کوئی اضافہ تو درکنار ،پچھلے چالیس برسوں میں کسی نے ان سے ہم عناں ہونے کا دعویٰ بھی نہیں کیا ۔ دراصل قاضی صاحب کے حدود مملکت میں داخل ہونے کیلئے ان صدہا کتابوں کے جنگلوں سے گذرنا ، بلکہ اس میں ایک مدت مدید بسر کرنا