ضروری ہے ۔ جن میں موصوف نے اپنے مراجع ومآخذ کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ا س بنیادی شرط کا ہی پورا کرنا نہایت دشوار گذار ہے ۔ اس لئے اگلے مراحل کی نوبت ہی نہیں آپاتی۔
سر بسر ہوئی نہ وعدۂ صبرآزما سے عمر
فرصت کسے کہ تیری تمنا کرے کوئی(غالب)
(ب) قاضی صاحب کی یہ خوبی بھی قابل ذکر ہے کہ وہ کسی خاص نظریے کے اثبات یا اس کی نفی کیلئے نہ مطالعہ کرتے ہیں نہ لکھتے ہیں ۔ اس بات کو ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ کسی ذہنی تحفظ یا پیش بندی کے بغیر کھلے ذہن اور کھلی طبیعت کے ساتھ کتابوں کا مطالعہ کرتے اور پھر حاصل مطالعہ کو پیش کر دیتے ہیں ۔اس لئے نہ تو خود کسی مغالطے میں مبتلا ہوتے ہیں اور نہ اپنے قاری کو اپنے مخصوص نظریات وافکار کی زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
قاضی صاحب کے اس وصف خاص کی داد صحیح معنوں میں وہ لوگ دے سکتے ہیں جنھوں نے مستشرقین یا ان کے تربیت یافتگان کی کتابیں پڑھی ہوں اور پھر ان کی خباثتوں اور ریشہ دوانیوں کا اندازہ لگایا ہو کہ کس طرح یہ لوگ اپنی ہربات بظاہر معقول و مدلل طریقے سے کہتے اور حوالوں کے انبار لگا دیتے ہیں ، لیکن وہ تصویر کا صرف ایک رخ بلکہ بسا اوقات اس کا مسخ شد ہ روپ ہوتا ہے۔
افسوس ہے کہ ہمارے بعض نیک نیت اور مخلص مصنفین نے بھی بعض صالح مقاصد کے حصول کیلئے یہی غلط طریق کار اختیار کیا ہے ۔ حالانکہ مقاصد کے صلاح کے ساتھ ساتھ طریق کار کی درستگی کالحاظ رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔ بصورت دیگر اول الذکر گروہ کی طرح ثانی الذکر جماعت کی تحریروں پر بھی پوری طرح اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
قاضی صاحب کی تمام تصانیف اس قسم کی بے اعتدالیوں سے پاک وصاف ہیں ان کے یہاں ہر بڑے سے بڑے مصنف کی طرح تسامحات اور فروگذاشتوں کا امکان تو ہے، لیکن دیدہ و دانستہ حقائق پر پردہ دالنے یا اسے کسی خاص رخ یا زاویے سے پیش کرنے کا رجحان ہرگز نہیں پایا جاتا ۔ا س کا سب سے برا فائدہ یہ ہے کہ ہم قاضی صاحب کے