اس کا آخری حرف ’’ ی ‘‘ ہے ، اب قر عہ جیتنے والا نمائندہ ’’ ی ‘‘ سے شروع ہو نے والا شعر پڑھے ۔ مثلاً
یہ آسماں خدایا ! جو بے ستوں ہے قائم
تخلیق میں ہے اس کی حکمت تمام تیری
اس کا بھی آخری حرف ’’ ی ‘‘ ہے اب چاہئے کہ دوسری جماعت کا نمائندہ بھی ’’ ی ‘‘ سے شروع ہو نے والا شعر پڑھے ۔ مثلاً :
یکبار گی یہ گلشنِ عالم مہک گیا
خوشبوئے پسینہ چلی آئی ابھی ابھی
( ۳ ) اس طر ح سے بیت بازی کا دور ، جوش وخروش کے ساتھ چلنا چاہیے ، تمام شرکا ء کو چاہیے کہ اشعار زیادہ سے زیادہ اور پختہ یاد کر کے آئیں تا کہ خوب روانی کے ساتھ پڑھ سکیں اور دور انِ مسابقہ خوب چوکس رہیں ، مد مقابل کا شعر پوری توجہ سے سنیں تا کہ بر جستگی کے ساتھ جوابی شعر پڑھ سکیں ، اور اگر تر نم سے پڑھیں تو سامعین کی مزید کشش اور دلچسپی کا باعث ہو گا ، اور ضروری ہے کہ اشعار ، سنجیدہ ، پختہ ، بامعنی اور ناصحا نہ ہوں ۔ شعر کے صرف آخری حرف کا اعتبار کیا جائے بعض جگہوں پر دیکھا گیا ہے کہ اخیر کے دو حرفوں کا اعتبار کر تے ہیں یہ نا مناسب ہے ۔
اگر شعر تحت اللفظ پڑھیں تو اس کے شایانِ شان حرکات وسکنات اپنائیں اور مناسب طور پر داد وتحسین کی بھی گزارش کر سکتے ہیں ، لیکن کسی بھی حال میں بھونڈا پن ، نا شائستگی اور بد تہذیبی کا اظہار نہ ہو ۔ اور اگر اشعار کے ساتھ شعرا ء کا نام بھی بتاتے رہیں تو زیادہ بہتر ہو گا ۔
اختتامِ مجلس کے دو طریقے ہو سکتے ہیں :
پہلا طریقہ تو یہ کہ فریقین کے لیے اشعار کی تعدا د مقر ر کر دی جائے ، مثلاً ۱۰۰ ؍ ۱۰۰ ؍ یعنی جب دونوں فریق سو ، سو شعر سنا چکیں تب اختتام کا اعلان کیا جائے ۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وقت مقرر کر دیا جائے ، مثلاً دو گھنٹے یعنی دو گھنٹے مکمل ہونے پر اختتام کا اعلان کیا جا ئے اور بعد ازاں منصفا نِ مجلس کے تاثرات ، نتائج کا اعلان او ر صدرِ مجلس کے مختصر بیان اور انہی کی دعا پر مجلس ختم کر دی جائے ۔
یہ سادہ بیت بازی کا طریقہ ہے اس کے علاوہ اور بھی کئی طریقے ہیں جنہیں ’’ آدابِ بیت بازی ‘‘ نا می کتاب میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ۔
( ولیؔ بستوی )