تفسیر کے ان ہی اصول وقواعد پر مشتمل ایک نہایت وقیع پُر مغز اور حل مشکلات کتاب مسند الہند حضرت الشاہ ولی اللہ الدہلوی رحمہ اللہ کی ’’ الفوزالکبیر ‘‘ ہے ، جو واقعی اسم بامسمّٰی ہے ، قرآنی تفسیر کے دوران تمام مراحل وعقبات سے بے خطر گذرکر مراد باری تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے ایک مضبوط زینہ ہے ، راہِ تفسیر کی وادیوں میں ضیا بخشنے والی ایک مشعل تاباں ہے ، اس کے اعتمادواستناد اور افادیت کا اندازہ کرنے کے لیے حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا نام ونسبت ہی کافی ہے ۔ حضرت شاہ صاحب کی یہ کتاب دراصل فارسی زبان میں تھی ۔ اس کی تعریب وتشریح کا کا م کیا گیا ۔ کئی مفید شرحیں بھی اردو عربی میں لکھی گئیں ۔ لیکن آج کے اس دورِ انحطاط میں طلبہ کی علمی بے ذوقی اور گرتی ہوئی صلاحیت کے پیش نظر ضرورت تھی کہ اردو زبان میں اس کی تلخیص کردی جائے جس سے طلبہ کو سمجھنا پھر یاد کرنا آسان ہوجائے ۔ نوشتۂ تقدیر نے یہ کام محترم جناب مولانا افتحار احمد صاحب قاسمی استاذ جامعہ اکل کوا کے نام مقدر کر رکھا تھا ۔ چناں چہ مولانا موصوف نے ( اصطلاحات اصول تفسیر ) نامی کتاب ترتیب دی ۔ کتاب کی تکمیل پر موصوف نے خادم القرآن حضرت مولانا غلام محمد صاحب وستانوی دامت برکاتہم کی خدمت میں اس کو پیش کیا حضرت وستانوی نے مجھ ناچیز حقیر وفقیر کو اس کے متعلق اظہار خیال اور کچھ لکھنے کا حکم دیا ۔ نیز خود مؤلف موصوف کی یہ تمنا ہوئی کہ یہ ناچیز اپنا تأثر پیش کرے ۔ چناں چہ اسی پس منظر میں یہ سطریں سپر د قرطاس کی جارہی ہیں کہ کتاب اپنے مقصد میں کامیاب ہے ۔ مصطلحاتِ کتاب کو بہت ہی آسان اور سلیس اسلوب میں پیش کیا گیا ہے ۔ زوائد اور غیر ضروری طوالت سے احتراز کا بھرپور اہتمام ہے ۔ امید ہے کہ یہ کتاب ’’ الفوزالکبیر ‘‘ کے درس وتدریس اور استفادہ میں فائز المرامی کا ذریعہ بنے گی ۔ اللہ کرے یہ کتاب قرآن فہمی اور طلبۂ میں تفسیری صلاحیت آفرینی کا بہترین ذریعہ ثابت ہو اور مؤلف کی یہ عملی کاوش عنداللہ وعندالناس مقبول ہو ۔
احقر رضوان المعروفی
خادم التدریس جامعہ اکل کوا / ۱۶ ؍ ۷ ؍ ۳۴ھ