اپنی بات
اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن کریم ’’ اصلاح معاد ‘‘ کے مقصد سے ’’ توحید ‘‘ ’’ رسالت ‘‘ اور ’’ آخرت ‘‘ کے بنیادی عنوان اور کلیدی عناصر کے ساتھ حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے ۔ اس کتاب کی صحیح مراد تک رسائی کے لیے متقدمین علمائے اہل سنت والجماعت نے قرآن وحدیث کے مطالعے میں تدین کے ساتھ زندگیاں کھپاکر قرآن وحدیث سے اخذ فرماکر کچھ وہبی ونقلی اصول بیان فرمائے ہیں ۔ جن کو حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فارسی زبان میں ’’ الفوزالکبیر فی اصول التفسیر ‘‘ کے نام سے ’’ طالبان علوم تفسیر ‘‘ کے لیے بالخصوص یکجا فرمایا تھا ۔ پھر ایک دمشقی عالمِ دین شیخ محمد منیر دمشقی نے اس کی تعریب فرمائی تھی اور حال ہی میں دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث استاذ گرامی قدر حضرت مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری مدظلہٗ العالی نے بھی آسان عربی میں اس کتاب کو منتقل فرمایا ۔ انہیں تمام مباحث کو ’’ اصطلاحاتِ اصولِ تفسیر ‘‘ کے نام سے اردو زبان میں اختصار و تسہیل کے ساتھ افادۂ عام کے مقصد سے پیش کیا جارہا ہے ، جس کی تیاری میں ’’ التقصیر فی التفسیر ‘‘ ’’ اشرف التفاسیر ‘‘ ’’ بیان القرآن ‘‘ اور ’’ علوم القرآن ‘‘ سے بھی مددلی گئی ہے ۔
اللہ تعالیٰ اس رسالے کو نافع بنائے ، مؤلف ، اس کے والدین و اساتذہ اور معاونین و مخلصین کے لیے ذر یعۂ نجات بنائے ۔ آمین !
افتخار احمد قاسمیؔ بستوی / استاذ جامعہ اکل کوا
۱۷ ؍ جمادی الاخریٰ ۱۴۳۴ھ - ۲۹ ؍ اپریل ۲۰۱۳ء ، بروز پیر