’’ اصل ‘‘ ہے ۔ لغت میں اس کے معنی ہیں : جڑ ، اساس ، بنیاد ، ایسی شئ جس پرکوئی دوسری شیٔ ٹھہرے اور قائم رہے ۔
تفسیر کے لغوی معنی واضح کرنا اور بیان کرنا ہے ، یہ لفظ بابِ تفعیل کا مصدر ہے فَسَّرَ یُفَسِّرُتَفْسِیْرًا استعمال ہوتاہے ( ۱ ) ۔
اصول تفسیر کی لغوی تعریف : اصول : جڑ ، بنیاد ، تفسیر : کھولنا واضح کرنا ۔
حداضافی کے عنوان سے اصول تفسیر کی جو ’’ حداضافی ‘‘ اوپرپہلے ذکرکی گئی ہے ، اسی کو ’’ لغوی تعریف ‘‘ بھی کہتے ہیں ۔ مختصراً یہ کہ ’’ حداضافی ‘‘ کا دوسرا نام ’’ لغوی تعریف ‘‘ بھی ہے ۔
اصول تفسیر کی حدلقبی :
اصول تفسیر ایسے قواعد و اصول کے جاننے کا نام ہے جن سے قرآن کریم میں اللہ کی مراد کو بشری طاقت کے بقدر صحیح صحیح جانا جاسکے ۔
اصطلاحی تعریف : ’’ حدلقبی ‘‘ ہی کا دوسرا نام ’’ اصطلاحی تعریف ‘‘ ہے ۔ گویاکہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’ اصول تفسیر کی اصطلاحی تعریف یہ ہے کہ ایسے قواعد واصول کو جانا جائے جن سے قرآن میں اللہ کی صحیح صحیح مراد انسانی طاقت کے بقدر معلوم ہوسکے ۔
------------------------------
( ۱ ) تفسیر : تفسیر کی اصطلاحی تعریف عربی زبان میں یہ ہے ’’ اَلتَّفْسِیْرُ عِلْمٌ یُبْحَثُ فِیْہِ عَنِ الْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ مِنْ حَیْثُ دَلالَتَہٗ عَلٰی مُرَادِ اللّٰہِ تَعَالٰی بِقَدْرِالطَّاقَۃِ الْبَشَرِیَّۃِ ‘‘ ( الفوزالکبیر فی اصول التفسیر : ص / ۱۳ ، جدید نسخہ عربی ترجمہ مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری مدظلہ ، مطبوعہ مکتبہ حجاز دیوبند ) فن تفسیر ایک ایسا علم ہے جس میں قرآن کریم سے اس حیثیت سے بحث کی جاتی ہے کہ اللہ کی مراد کس آیت سے کیاہے ، انسانی طاقت کے بقدر اس کا پتہ لگایا جائے ۔ اس تعریف میں دو باتوں کو ملحوظ رکھا گیاہے : ( ۱ ) موضوع ( ۲ ) غرض وغایت ۔ موضوع تو قرآن کریم ہے اور غرض وغایت صحیح مراد تک پہونچ کر اس پر عمل ہے ، انھیں دونوں باتوں سے مل کر حدلقبی اور تعریف کی گئی ہے ۔