حدیث کی تقسیم سند و متن کی طرف :
ہر حدیث کی دو قسمیں ہوتی ہیں : ( ۱ ) سند ( ۲ ) متن ۔ …محدث کی اصطلاح میں ایسی کوئی حدیث نہیں پائی جاتی جس میں یہ دونوں قسمیں ( یعنی سند و متن ) نہ پائی جائیں ۔ البتہ جہاں ہم متون حدیث کے مجموعے کو ، کبھی بعض تصنیفات و کتب میں بلا اسانید کے پاتے ہیں ، تو وہ احادیث بغیر سند کے نہیں ہوتیں ، بل کہ انہیں بعض علما بلا سند کے نقل کر دیتے ہیں ، جس کا مقصد ہوتا ہے کہ ابتدائی درجات کے طلبہ ، چھوٹے بچے اور عوام کو اختصار و تسہیل کے ساتھ احادیث یاد ہوجائیں ، اب جن کو ان احادیث کی اسانید مطلوب ہوں تو وہ ان کتابوں کی طرف رجوع کرے جہاں سے یہ احادیث لی گئی ہیں ۔
سند کی تعریف :
لغوی : سند کے لغوی معنی ’’ المعتمد ‘‘ ( ۱ ) کے ہیں یعنی جس پر اعتماد کیا جائے ، سند کی وجہِ تسمیہ یہ ہے کہ متنِ حدیث کی نسبت سند ہی کی طرف ہوتی ہے اور متن کا اعتماد اسی پر ہوتا ہے ، سند اور اِسناد دونوں مترادف ہیں ۔
اصطلاحی : سند کی اصطلاحی تعریف یہ ہے کہ رجال کا وہ سلسلہ جو متنِ حدیث تک پہنچانے والا ہوتا ہے وہ اصطلاحِ محدثین میں سند کہلاتا ہے ۔
متن کی تعریف :
لغوی : لغت میں ’’ متن ‘‘ کے معنی آتے ہیں ، ایسی زمین کے جو سخت ہوجیسا کہ قاموس ( ۴/۲۷۱ ) میں ہے ۔
------------------------------
( ۱ ) قاموس : ۱/۳۱۴