خود حاضر ہوتا ہے ، اور لڑکی کی طرف سے وکیل موجود ہوتا ہے ، اور قاضی دراصل لڑکی کا وکیل ہوتا ہے ، چناںچہ وہ لڑکی کی طرف سے ایجاب کرتے ہوئے لڑکے سے کہتا ہے کہ ’’ میں نے فلاں لڑکی بنت فلاں کا نکاح تمہارے ساتھ اتنے مہر کے عوض کردیا ‘‘ جسے لڑکا قبول کرتا ہے ، پس اِس طریقہ میں لڑکی کی طرف سے وکالۃً اور لڑکے کی طرف سے اِصالۃً نکاح منعقد ہوجاتا ہے ، اور یہ نکاح کا بہتر اور متداول طریقہ ہے ۔ ( فتاویٰ محمودیہ ۱۶ ؍ ۴۱ میرٹھ )
فإن استأذنہا ہو أي الولي وہو السنۃ ( الدر المختار ) بأن یقول لہا قبل النکاح فلان یخطبک أو یذکرک فسکتت ۔ ( شامي ۴ ؍ ۱۵۹ زکریا ، مجمع الأنہر ۱ ؍ ۴۹۰ )
لڑکی سے اجازت لینے کون جائے ؟
نکاح میں لڑکی سے اجازت لینے اُنہیں رشتہ داروں کو جانا چاہئے جو لڑکی کے محرم ہوں ، نامحرم رشتہ داروں کے لئے اجازت کے لئے جانا صحیح نہیں ہے ؛ کیوںکہ اِس سے بے پردگی ہوتی ہے ۔ ( گوکہ اجازت ووکالت درست ہوجاتی ہے ) ( مستفاد : فتاویٰ محمودیہ ۱۶ ؍ ۴۱ میرٹھ ، کتاب الفتاویٰ ۴ ؍ ۲۹۹ )
وتمنع المرأۃ الشابۃ من کشف الوجہ بین الرجال ؛ لا لأنہ عورۃ ؛ بل لخوف الفتنۃ ۔ ( شامي ۲ ؍ ۷۹ زکریا )
إن وجہ الحرۃ عندنا لیس بعورۃٍ ، فلا یجب سترہ ، ویجوز النظر من الأجنبي إلیہ إن أمن الشہوۃ مطلقًا ، وإلا فیحرم وقال القہستاني : منع النظر من الشابۃ في زماننا ولو لا شہوۃ ۔ ( روح المعاني ۲۲ ؍ ۱۲۸ زکریا )
ضروری نوٹ : - بعض خاندانوں میں دیکھا گیا ہے کہ پوری برادری کا ایک ہی وکیل ہوتا ہے ، وہی ہر نکاح میںلڑکی سے اجازت لے کر آتا ہے ، خواہ لڑکی اُس کی محرم ہو یا نہ ہو ، تو یہ طریقہ اِسلامی غیرت کے خلاف اور قابلِ ترک ہے ۔
کیا لڑکی سے اجازت لیتے وقت گواہوں کی موجودگی شرط ہے ؟
جس وقت وکیل لڑکی سے اجازت لینے جائے تو اُس کے ساتھ گواہوں کو جانا ضروری