نہیں ہے ، یعنی وکالت کی درستگی کے لئے گواہوں کی موجودگی شرط نہیں ( لیکن اگر احتیاطاً ساتھ لے جائیں تو منع بھی نہیں ، مگر یہ سب لوگ لڑکی کے محرم ہونے چاہئیں ) ۔
أما الشہادۃ علی التوکیل بالنکاح فلیست بشرط لصحتہ ، کما قدمناہ عن البحر ۔ وإنما فائدتہا الإثبات عند جحود التوکیل ۔ ( شامي ۴ ؍ ۷۳ بیروت ، ۴ ؍ ۲۲۱-۲۲۲ زکریا ، الفقہ الإسلامي وأدلتہ ۷ ؍ ۲۱۹ ، البحر الرائق ۳ ؍ ۱۴۶ زکریا ، فتح القدیر ۳ ؍ ۳۰۱ )
یصح التوکیل بالنکاح وإن لم یحضرہ الشہود ۔ ( الفتاویٰ الہندیۃ ۱ ؍ ۲۹۴ زکریا ، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۴ ؍ ۱۴۶ رقم : ۵۷۸۰ زکریا )
بالغہ لڑکی کی طرف سے ماں کا اجازت دینا اور سہیلی کا انگوٹھا لگانا
اگر کنواری لڑکی کے سامنے وکیل نے نکاح کا تذکرہ کیا ، اور وہ خاموش رہی ، پھر اُس کی طرف سے کسی سہیلی نے رجسٹر پر انگوٹھا لگادیا ، یا ماں نے اجازت دے دی ، تو یہ اجازت کافی ہے ، اور اس کی بنیاد پر نکاح درست اور منعقد ہوجائے گا ۔ اور اگر اجازت سے قبل ہی لڑکی کا عقد کردیا گیا تو اگر بعد میں اُس نے اُس نکاح پر قولاً یا فعلاً رضامندی ظاہر کردی تو نکاح نافذ ہوجائے گا ، اور اگر اُس سے بالکل اجازت ہی نہیں لی گئی یا اُس نے بعد میں رضامندی اور قبولیت کا اظہار نہ کیا ، تو محض سہیلی کے انگوٹھا لگانے اور ماں کی اجازت دینے سے اُس کا نکاح درست نہ ہوگا ۔
ومنہا رضا المرأۃ إذا کانت بالغۃ بکرًا کانت أو ثیبۃً ۔ ( الفتاویٰ الہندیۃ ۱ ؍ ۲۶۹ )
وتثبت الإجازۃ بنکاح الفضولي بالقول والفعل ۔ کذا في البحر الرائق ۔ ( الفتاویٰ الہندیۃ ۱ ؍ ۲۹۹ ، شامي ۳ ؍ ۱۴ کراچی ، الہدایۃ ۲ ؍ ۲۱۳ ملتان )
لا یجوز نکاح أحد علیٰ بالغۃٍ صحیحۃ العقل من أبٍ أو سلطانٍ بغیر إذنہا بکرًا کانت أو ثیبًا ، فإن فعل ذٰلک فالنکاح موقوفٌ علی إجازتہا ، فإن إجازتہ جاز وإن ردتہ بطل ۔ ( الفتاویٰ الہندیۃ ۱ ؍ ۲۸۷ زکریا )