حالات پیش آجاتے ہیں کہ آدمی کے لئے کسی دوسری عورت کو قانونی بیوی بنائے بغیر چارۂ کار نہیں ہوتا ، یا بعض مرتبہ خود عورتوں کی خیرخواہی اس میں مضمر ہوتی ہے کہ انہیں کسی مرد کا شریکِ حیات بنایا جائے ، اگرچہ وہ مرد پہلے سے شادی شدہ ہو --- تعددِ نکاح کی اجازت دی ہے ۔
تعددِ نکاح کی بعض حکمتیں
حضرت الاستاذ حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری مدت فیوضہم شیخ الحدیث وصدر المدرسین دارالعلوم دیوبند ’’ حجۃ اللہ البالغہ ‘‘ کی شرح فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : ’’ مصالح مقتضی ہیں کہ ایک سے زیادہ نکاح کرنے کی اجازت دی جائے ، چند حکمتیں در ج ذیل ہیں :
پہلی حکمت : - مؤمن کے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت تقویٰ اور پرہیزگاری کی ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے بعض مردوں کو قوی الشہوت بنایا ہے ، ایسے لوگوں کے لئے ایک بیوی کافی نہیں ، عورتوں کو بہت سے اعذار پیش آتے ہیں ، وہ ہر وقت اس قابل نہیں ہوتیں کہ شوہر ان سے ہم بستر ہوسکے ، ان کو ماہواری آتی ہے اور حمل کے زمانہ میں جنین کی حفاظت کے لئے ان کو مردوں سے اختلاط کم کرنا پڑتا ہے ، اس لئے اگر ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت نہیں دی جائے گی تو تقویٰ کا دامن مرد کے ہاتھ سے چھوٹ جائے گا ۔
دوسری حکمت : - نکاح کا سب سے اہم مقصد افزائش نسل ہے ، اور مرد بیک وقت متعدد بیویوں سے اولاد حاصل کرسکتا ہے ، پس تعددِ ازدواج سے مقصدِ نکاح کی تکمیل ہوتی ہے ۔
تیسری حکمت : - متعدد عورتیں کرنا مردوں کی عادت وخصلت ہے ، اور کبھی مرد اس کے ذریعہ ایک دوسرے پر فخر کرتے ہیں ، اور جائز مباہات ( شان وشوکت ) کی اجازت ہے ، جیسے متعدد مکانات ، سواریاں اور لباس رکھنا ، پس تعددِ ازدواج بھی ایک فطری تقاضہ کی تکمیل ہے ‘‘ ۔ ( رحمۃ اللہ الواسعۃ شرح حجۃ اللہ البالغۃ ۵ ؍ ۹۸-۹۹ )
اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہٗ نے درج ذیل وجوہِ تعددِ ازدواج شمار کرائی ہیں :
( ۱ ) تقویٰ : - یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ متعدد بیویوں والا شخص دیگر لوگوں کے مقابلہ میں تقویٰ اور غض بصر پر زیادہ قابو پاسکتا ہے ۔
( ۲ ) حفظ القویٰ : - یعنی عورتوں کے مقابلہ میں مردوں کی قوتیں دیر تک محفوظ رہتی ہیں ، جب کہ عورتوں پر بڑھاپے کے آثار جلدی ظاہر ہوجاتے ہیں ، اس اعتبار سے بعض حالات میں مرد