أصلاً أو سمّٰی فیہ ما ہو مجہولٌ ، أو ما لا یحل شرعًا ، وحکم کل نکاحٍ فاسدٍ بعد الوطئ سُمِّي فیہ مہرٌ أو لا ۔ ( الدر المختار مع الشامي ، کتاب النکاح / باب المہر ۴ ؍ ۲۸۱-۲۸۲ زکریا )
مہر مثل کی تعیین میں زوجین کے درمیان اختلاف
اگر مہر مثل کی تعیین میں زوجین کے درمیان اختلاف ہوجائے ( یعنی عورت زیادتی کا دعویٰ کرے اور شوہر اُس کا منکر ہو ) تو بیوی پر اِس بات کے گواہ پیش کرنا لازم ہوگا کہ خاندان میں فلانی عورت اُس کے ہم مثل ہے ، اور اُس کا اتنا مہر ہے ، اگر دو عادل گواہ اِس طرح گواہی دے دیں تو قاضی عورت کے حق میں فیصلہ کردے گا ، ورنہ شوہر کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی ۔
ویشترط فیہ أي في ثبوت مہر المثل إخبار رجلین أو رجلٍ وامرأتین ، ولفظ الشہادۃ ، فإن لم یوجد شہود عدولٌ فالقول للزوج بیمینہٖ ۔ وفي الشامیۃ : تحت قولہ : لما ذُکر : وأشار بہٖ إلیٰ أنہ لا بد من الشہادۃ علی الأمرین المماثلۃ بینہما ، وأن مہر الأولیٰ کان کذا ۔ ( الدر المختار مع الشامي ، کتاب النکاح / باب المہر ۴ ؍ ۲۸۴ زکریا )
اگر باپ کے خاندان میں کوئی ہم مثل عورت نہ ہو ؟
اگر باپ کے خاندان میں کوئی ایسی عورت نہ ہو جو صفات کے اعتبار سے منکوحہ عورت کے ہم مثل قرار دی جائے ، تو ایسی صورت میں باپ کے خاندان کے ہم مثل خاندان کی عورتوں سے موازنہ کیا جائے گا ۔ اور اگر اُن میں بھی کوئی ہم مثل نہ مل سکے ، تو شوہر کی بات کا اعتبار کیا جائے گا ، اور اگر شوہر کوئی مقدار مقرر نہ کرے تو معاملہ دارالقضاء میں پیش کیا جائے ، اور قاضی حسبِ حال مہر کی تعیین کرے ۔
فإن لم یوجد من قبیلۃ أبیہا ، فمن الأجانب أي فمن قبیلۃٍ تماثل قبیلۃ أبیہا ، فإن لم یوجد فالقول لہ أي للزوج في ذٰلک بیمینہٖ ۔ وفي الشامیۃ : قولہ :