زبردستی طلاق لکھنے یا دستخط کرنے پر مجبور کرنا
اگر کسی شخص کو ڈرا دھمکاکر طلاق لکھنے یا طلاق نامہ پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا اور اُس نے مارپیٹ کے خوف سے الفاظِ طلاق تحریر کردئے یا دستخط کردئے اور زبان سے کچھ نہ کہا تو اِس سے بیوی پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی ۔
رجل أکرہ بالضرب والحبس علیٰ أن یکتب طلاق امرأتہ فلانۃ بنت فلان بن فلان ، فکتب : امرأتہ فلانۃ بنت فلان بن فلان طالق ، لا تطلق امرأتہ ؛ لأن الکتابۃ أقیمت مقام العبارۃ باعتبار الحاجۃ ولا حاجۃ ہٰہنا ۔ ( فتاویٰ قاضي خان ، کتاب الطلاق / فصل في الطلاق بالکتابۃ ۱ ؍ ۴۷۲ زکریا ، الفتاویٰ الہندیۃ ۱ ؍ ۳۷۹ ، وہٰکذا في الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۴ ؍ ۵۳۲ رقم : ۶۸۴۳ زکریا ، الفتاویٰ الولوالجیۃ ۲ ؍ ۹۹ )
رجل أکرہ بالضرب والحبس علیٰ أن یکتب طلاق امرأتہ فکتب فلانۃ بنت فلان امرأتہ طالق ۔ وفي الحاوي : ولم یعبر بلسانہ لا تطلق ۔ ( الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۴ ؍ ۵۳۲ رقم : ۶۸۴۳ زکریا ، المحیط البرہاني ۶ ؍ ۴۲۹ کوئٹہ ، الفتاویٰ الہندیۃ ، کتاب الطلاق / الفصل السادس في الطلاق بالکتابۃ ۱ ؍ ۳۷۸ قدیم زکریا )
’’ اِی میل ‘‘ کے ذریعہ طلاق
’’ اِی میل ‘‘ کے ذریعہ جو طلاق نامہ بھیجا جائے ، اُس سے بھی طلاق واقع ہوجائے گی ، جب کہ یہ یقین ہو کہ یہ میل شوہر ہی نے بھیجا ہے ۔
ثم إن کتب علیٰ وجہ المرسوم ولم یعلقہ بشرط بأن کتب : أما بعد ! یا فلانۃُ فأنت طالق ، وقع الطلاق عقیب کتابۃ لفظ ’’ الطلاق ‘‘ بلا فصل ، لما ذکرنا أن کتابۃ قولہ : ’’ أنت طالق ‘‘ علیٰ طریق المخاطبۃ بمنزلۃ التلفظ بہا ۔ ( بدائع الصنائع ۴ ؍ ۲۴۰ بیروت ، وہٰکذا في الفتاویٰ الہندیۃ ، کتاب الطلاق / الفصل السادس في الطلاق بالکتابۃ ۱ ؍ ۳۷۸ قدیم زکریا ، شامي ، کتاب الطلاق / مطلب في الطلاق بالکتابۃ ۴ ؍ ۴۵۶ زکریا ، الفتاویٰ