( ۱ ) زوجیت : - ( یعنی شوہر پر اپنی منکوحہ کا نفقہ واجب ہوتا ہے )
( ۲ ) رشتہ داری : - ( جیسے : باپ پر اپنی اَولاد کا نفقہ یا اَولاد پر اپنے محتاج ماں باپ کا نفقہ وغیرہ )
( ۳ ) ملکیت : - ( یعنی آقا پر اپنے غلام باندی کا نفقہ واجب ہوتا ہے )
ونفقۃ الغیر تجب علی الغیر بأسباب ثلاثۃ : زوجیۃ وقرابۃ وملک ۔ ( الدر المختار ، کتاب الطلاق / باب النفقۃ ۵ ؍ ۲۷۸ زکریا )
بیوی کے نفقہ اور رہائش کے بارے میں قرآنِ کریم کی صراحت
اِسلام نے زوجین میں سے ’’ مرد ‘‘ کو ’’ قوّام ‘‘ قرار دیتے ہوئے گھر کے تمام اِخراجات کی ذمہ داری اس پر ڈالی ہے ، اور بیوی کو معاشی ذمہ داریوں سے بالکل آزاد رکھا ہے ۔ اِرشادِ خداوندی ہے :
الرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَہُمْ عَلیٰ بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ ۔ ( النساء ، جزء آیت : ۳۴ )
مرد حاکم ہیں عورتوں پر اِس واسطے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ، اور اِس وجہ سے کہ اُن مردوں نے اپنے اَموال ( عورتوں ) پر خرچ کئے ( مہر اور نفقہ وغیرہ )
نیز فرمایا :
وَعَلَی الْمَوْلُوْدِ لَہٗ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۔ ( البقرۃ : ۲۳۳ )
اور لڑکے والے ( یعنی باپ ) پر اُن عورتوں کا کھانا کپڑا معروف طریقہ پر لازم ہے ۔
لیکن نفقہ کی مقدار کے بارے میں شوہر کی مالی وسعت کو معیار بنایا ہے ؛ تاکہ اُس پر غیرضروری بوجھ نہ پڑے ۔ چناںچہ سورۂ طلاق میں اِرشاد فرمایا :
لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَۃٍ مِنْ سَعَتِہٖ ، وَمَنْ قُدِرَ عَلَیْہِ رِزْقُہٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّا اٰتَاہُ اللّٰہُ ، لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلاَّ مَا اٰتَاہَا ، سَیَجْعَلُ اللّٰہُ بَعْدَ عُسْرٍ یسرًا ۔ ( الطلاق : ۷ )
ہر وسعت والے کو اپنی وسعت کے بقدر خرچ کرنا چاہئے ، اور جس کی روزی تنگ ہو تو وہ جو بھی اللہ نے اُسے عطا کیا اُسی میں سے خرچ کیا کرے اور اللہ تعالیٰ کسی کو اُس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتا ، عنقریب اللہ تعالیٰ تنگی کے بعد سہولت کے راستے کھول دیںگے ۔
اِسی طرح قرآنِ کریم میں رہنمائی کی گئی کہ اپنی بیویوں کے لئے اپنی وسعت کے بقدر رہائش کا انتظام کیا جائے ، اور اُن پر تنگی نہ کی جائے ۔ اِرشادِ خداوندی ہے :