اَسْکِنُوْہُنَّ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُمْ مِنْ وُّجْدِکُمْ وَلاَ تُضَآرُّوْہُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْہِنَّ ، وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ ۔ ( الطلاق ، جزء آیت : ۵ )
اُن عورتوں کو رہنے کے لئے گھر دو جہاں تم خود رہتے ہو اپنی وسعت کے مطابق ، اور اُن کو ایذا مت پہنچاؤ کہ اُن پر تنگی کرو اور اگر وہ حاملہ ہوں ، تو اُن پر وضع حمل تک خرچ کرتے رہو ۔
اِس آیت میں نفقہ کے لئے جو حاملہ ہونے کی شرط ہے ، وہ حنفیہ کے نزدیک محض اتفاقی شرط ہے ، احترازی نہیں ہے ؛ لہٰذا منکوحہ یا مطلقہ ؛ حاملہ ہو یا غیرحاملہ ، بہرصورت معروف طریقہ پر حسبِ شرائط شوہر پر بیوی کا نفقہ واجب ہوگا ۔
اِس کے علاوہ حضراتِ مفسرین نے آیت : { وَعَاشِرُوْہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ } [ النساء : ۱۹ ] ( اور اُن ( بیویوں ) کے ساتھ معروف طریقہ اچھا برتاؤ کرو ) اور آیت : { وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ } [ البقرۃ ، جزء آیت : ۲۲۸ ] ( اور اُن بیویوں کے لئے بھی ایسے ہی حقوق ہیں ، جیساکہ اُن پر ذمہ داریاں ہیں معروف طریقہ پر ) سے بھی شوہر پر زوجہ کے نفقہ کو ثابت فرمایا ہے ۔ ( حاشیہ شامی ۵ ؍ ۲۷۸ شیخ عادل عبدالموجود )
نفقۂ زوجہ کا ذکر اَحادیثِ شریفہ میں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد اَحادیث میں بیوی کو اچھی طرح واجبی نفقہ وغیرہ اَدا کرنے کی تاکید فرمائی ہے ۔
الف : - حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے حجۃ الوداع سے متعلق طویل حدیث میں عرفات کے میدان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ بلند پایہ کلمات بھی نقل فرمائے ہیں ، جو پرسکون اِزدواجی زندگی کی ضمانت کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ آپ نے ارشاد فرمایا :
وَاتَّقُوْا اللّٰہَ فِیْ النِّسَائِ فَإِنَّکُمْ اَخَذْتُمُوْہُنَّ بِاَمَانِ اللّٰہِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوْجَہُنَّ بِکَلِمَۃِ اللّٰہِ وَلَکُمْ عَلَیْہِنَّ أَنْ لاَ یُوْطِیْنَ فُرُشَکُمْ أَحْداً تَکْرَہُوْنَہٗ فَإِنْ فَعَلْنَ ذٰلِکَ
عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو! اِس لئے کہ تم نے ان پر اللہ کے امان کے ذریعہ قابو پایا ہے اور اللہ کے حکم سے ( ایجاب وقبول کے ذریعہ ) ان سے جسمانی تعلق کو اپنے لئے حلال کیا ہے ، تمہارا ان پر حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر