فَاضْرِبُوْہُنَّ ضَرْباً غَیْرَ مُبَرَّحٍ ، وَلَہُنَّ عَلَیْکُمْ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۔ ( صحیح مسلم ۱ ؍ ۳۹۷ ، حیاۃ الصحابۃ ۳ ؍ ۴۰۳-۴۰۴ )
ایسے لوگوں کو نہ بیٹھنے دیں جن کا آنا تمہیں ناپسند ہو ، اگر وہ خلاف ورزی کریں تو انہیں ہلکی پھلکی تنبیہ کرو ، اور ان کا تمہارے اوپر حق یہ ہے کہ تم معروف طریقہ پر ان کے نان نفقہ اور لباس کا انتظام کرو ۔
واقعہ یہ ہے کہ معاشرتی زندگی کے لئے درج بالا ہدایات سے بہتر کوئی ہدایت نہیں ہوسکتی ، اس میں جہاں عورتوں کے حقوق اور ان کی ذمہ داریاں بیان کی گئی ہیں ، وہیں مردوں کو بھی ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا گیا ہے ۔ اگر ان ہدایات کی پابندی فریقین کریں تو کبھی بھی نزاع کی نوبت نہ آئے ، اور آپس میں الفت ومحبت ہمیشہ استوار رہے ، اور خاندانی نظام میں کبھی رخنہ پیدا نہ ہو ۔
بیوی اپنا نفقہ شوہر کے مال سے وصول کرسکتی ہے
ب : - اُم المؤمنین سیدتنا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا جو حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی اَہلیہ تھیں ، اُنہوں نے پیغمبر علیہ السلام کی خدمت میں آکر شکوہ کیا کہ ابوسفیان ایک تنگ دل آدمی ہیں ، وہ میری ضرورت کے بقدر میرا اور میری اَولاد کا نفقہ نہیں دیتے ، اِلا یہ کہ میں اُن کو بتائے بغیر لے لوں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں مشورہ دیا :
خُذِيْ مَا یَکْفِیْکِ وَوَلَدَکِ بِالْمَعْرُوْفِ ۔ ( صحیح البخاري / باب النفقات ۲ ؍ ۸۰۸ )
یعنی معروف اور مناسب طور پر جو تمہارے اور تمہاری اَولاد کے لئے کافی ہو ، وہ تم لینے کی مجاز ہو ۔
اِس ہدایت سے معلوم ہوا کہ اگر شوہر وسعت کے باوجود نفقہ اَدا نہ کرے ، تو بیوی بقدر ضرورت اُس کی اِجازت کے بغیر اُس کے مال میں سے اپنا نفقہ لے سکتی ہے ۔
بیوی اور گھر والوں پر خرچ موجب اَجر وثواب ہے
ج : - عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مال خرچ کرنے پر ثواب جبھی ملتا ہے ، جب اُسے کار خیر یا غریب اور فقیر پر خرچ کیا جائے ؛ لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جابجا گھر والوں پر خرچ کرنے کو اَولین اَجر کا سبب قرار دیا ہے ۔ بخاری شریف میں سیدنا حضرت ابومسعود الانصاری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا :
إِذَا أَنْفَقَ الْمُسْلِمُ نَفْقَۃً عَلیٰ أَہْلِہٖ
جب مسلمان شخص ثواب کی نیت سے اپنے گھر