قساوت قلب کبیرہ گناہ ہے
قساوت قلب اسی لئے اس قدر بری و بد تر چیز ہے کہ اس کی وجہ سے انسان خدا ہی سے دور ہوجاتا ہے ۔ یہاں تک کہ علامہ ابن حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ دل کی سختی گناہ کبیرہ میں سے ہے ، اور اس پر ایک حدیث سے دلیل لی ہے ، وہ یہ کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :
’’ اطلبُوا المعروفَ من رُحَمَاء أمَّتِي ، تعیشُوا في أکنافِھِمْ ، ولا تطلُبُوہ منَ القاسِیَۃِ قُلُوبُھم فَإنَّ اللعنۃَ تَنزِل عَلَیھِمْ ‘‘
( نیکی ، بھلائی تومیری امت کے رحم دل لوگوں سے حاصل کرواس طرح کہ ان کی چوکھٹ پر جاکر پڑ جاواو ر ہاں اس نیکی کو سخت دل لوگوں سے طلب نہ کرو ان پر تو خود لعنت برستی ہے ) ( الزواجر عن اقتراف الکبائر : ۱؍۲۰۲ )
اور ابن حجر مکی ہی نے امام خرائطی کے حوالے سے ایک اور حدیث نقل کی ہے جس میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ : ’’ فإنھم ینتظرون سخطي ‘‘ ( یہ سخت دل لوگ میرے غضب کا انتظار کر رہے ہیں )
( الزواجر عن اقتراف الکبائر : ۱؍۲۰۲ )
قساوت شقاوت کی دلیل
ایک اور حدیث سے قساوت کی برائی کا اندازہ کیجئے کہ اس میں قساوت کو شقاوت یعنی بد بختی کی علامت کہا گیا ہے ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :