خلاصہ: ان عبارتوں سے معلوم ہوا کہ جب آدمی برہنہ ہو کر غسل کرے تو قبلہ کی طرف رخ نہ کرنا مستحب ہے ، پس اس حالت میں غسل کرتے وقت استقبال قبلہ احناف کے نزدیک مکروہ تنزیہی یا خلاف اولیٰ ہے ۔واللہ اعلم
دانتوں پر چڑھے خول اور تاروں کے ساتھ غسل واجب کا حکم :
سوال : موجودہ زمانے میں کسی مصلحت کی بناء پر دانتوں پر خول چڑھاتے ہیں یا تاروں کے ذریعہ دانتوں کو باندھتے ہیں تو اس کا غسل واجب میں کیا حکم ہے جبکہ انہیں نکالنے میں دشواری پیش آتی ہے ؟
جواب : احسن الفتاوی میں ہے :
بعض لوگوں کے دانت ہلتے ہیں اور بعض کے بالکل گر جاتے ہیں اور اس کے بعد یہ لوگ سونے کا خول چڑھاتے ہیں اب جبکہ غسل کی حاجت پیش آتی ہے تو کیا غسل کے وقت اس خول کو نکالنا ضروری ہے یا نہیں ؟ اور اکثر یہ بہت مضبوط ہو تے ہیں بغیر ڈاکٹر کے نکالنے کے نہیں نکل سکتے اور بہت مشکل ہو تا ہے تو کیا اس کو درن وعجین پر قیاس کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ عجین کا تو اتارنا آسان ہے لیکن یہ تکلیف مالا یطاق کے قبیل سے ہے ؟
جواب :ایسا خول لگانا ضرورت میں داخل ہے اور اتارنے میں حرج ہے ۔ وہو مدفوع شرعا لہذا بدوں اتارے غسل صحیح ہو جائے گا ۔ونظائرہا مشہورۃ فی کتب القوم مسطورۃ بل نصوا علی جواز اتخاذ الاسنان من الذہب وشدہا بہ ولوکان مانعا عن صحۃ الغسل لما افتوابہ۔(احسن الفتاوی ۲/ ۳۲)
اگر کوئی شخص بغرض زینت خول وغیرہ چڑھائے جس سے ساری بتیسی بند ہو جائے تو وضوء اور غسل ہو جائے گا یا نہیں ؟ جب کہ آٹا اگر سوکھ جائے یا چکنا میل ناخن کے اندر ہو تو فقہاء کرام کے اقوال کے مطابق غسل نہیں ہو گا اس کا جواب کفایت المفتی میں یہ مذکور ہے ۔
دانتوں کی کسی خرابی کی وجہ سے سونے کا خول چڑھانا نا جائز نہیں اور محض زینت کے لئے مکروہ ہے اور ضرورۃً