اسرائیل کے پیغمبر کے ایک قاصد وہاں سے گزر رہے ہیں ، انھوں نے اس سے حال پوچھا ، اس نے پیاس کا حال بتا یا ، انھوں نے کہا کہ چلو ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں ایک بادل کا ٹھنڈا سایہ عطا کردے ۔
اس قصاب نے کہا کہ میرا کوئی ایسا عمل نہیں کہ میری دعا قبول ہو ، آپ ہی دعا کیجئے ۔ اس قاصد نے کہا کہ اچھا میں دعا کرتا ہوں اور تم آمین کہو ۔ چناںچہ انھوں نے دعا کی اور اس نے آمین کہی اور االلہ نے دعا قبول کر کے ان کو ایک بادل کا سایہ عطا کردیا ۔ یہاں تک کہ وہ دونوں اس سایہ میں چل کر اپنے قریہ کو پہنچ گئے اور جب وہ قصاب اپنے گھر کی جانب چلنے لگا ، تو وہ سایہ اسی کے ساتھ ہو گیا ، یہ دیکھ کر اس قا صد نے کہا کہ بھائی ! تم تو کہتے تھے کہ میرا کوئی عمل صالح نہیں ہے اور یہاں تو یہ معلوم ہورہا ہے کہ یہ سایہ تو تمہاری ہی وجہ سے ملا ہے ؛ لہٰذا مجھے تمہارا قصہ سناؤ کہ کیا ہے ؟ تب اس نے اپنی توبہ کا قصہ سنایا ، تو اس قاصد نے کہا کہ جو توبہ کرتا ہے ، وہ اللہ کے نزدیک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں کوئی دوسرا نہیں پہنچتا ۔
( احیاء العلوم : ۳ ؍ ۱۰۶ )
گناہ چھوڑنے کے لئے چند اہم نسخے
اس کے بعد ہم یہاں قرآن و حدیث اور بزرگان سلف کے اقوال و احوال و واقعات کی روشنی میں نفس کو گناہ سے باز رکھنے یا یوں کہیے کہ نفس کو گناہ کی علت وعادت چھڑا نے کے لیے چند اہم نسخے پیش کرتے ہیں ، جن کو ذہن نشین کر لینا چاہیے ۔ امید ہے کہ ان سے گناہ کی عادت چھوڑنے میں مدد ملے گی ۔
اللہ سے شرم و حیا
پہلی بات یہ ذہن میں ہو نا چاہیے کہ جس طرح آدمی انسانوں سے حیا و شرم کرتا