ہے ، اس کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی سے بھی حیا کرے ، کیا کوئی آدمی اپنے باپ یا ماں یا استاذ یا دوست کے سامنے گناہ کرنے تیار ہو گا ؟ نہیں ؛ کیوںکہ حیا اس سے مانع بنتی ہے اور اگر انسان کو اللہ تعالی سے حیا آجائے تو وہ ضرور گناہوں سے بچے گا ۔
حیا کی فضیلت
اسی لیے حدیث میں ہے : ’’ الحَیِائُ شُعْبَۃٌ مِنَ الِإیْمَانِ ‘‘ ( حیا ، ایمان کا ایک بڑاشعبہ ہے )
اور ایک حدیث میں ہے : ’’ مَاکَانَ الْحَیَائُ فِي شَيْئٍ إِلَّا زَانَہُ ‘‘
( کسی بھی چیز میں حیا ہو ، تو وہ اس کو زینت دیتی ہے )
( ترمذی : ۱۹۷۴ ، الادب المفرد : ۲۱۰ )
حیا کی حقیقت
ایک اور حدیث میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ اسْتَحْیُوْا مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی حَقَّ الحَیَائِ ‘‘ ( اللہ سے اس طرح حیا کرو ، جیسے اس سے حیا کرنے کا حق ہے )
صحابہ نے عرض کیا کہ الحمد للہ ! ہم تو اللہ سے حیا کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا :
’’ لَیْسَ ذَاکَ ؛ وَلٰکِنَّ الاسْتِحْیَائَ مِنَ اللّٰہِ حَقَّ الحَیَائِ أنْ تَحْفَظَ الرَّأسَ ، وَمَا وَعٰی ، وَالْبَطْنَ ، وَمَاحَوٰی ، وَلْتَذْکُرِ الْمَوتَ ، وَالبِلٰی ، وَمَنْ أَرَادَ الآخِرَۃَ ، تَرَکَ زِیْنَۃَ الدُّنْیَا ، فَمَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ ، فَقَدِ اسْتَحْیٰی مِنَ اللّٰہِ حَقَّ الحَیَائِ ‘‘ ( یہ حیا نہیں ! بل کہ اللہ سے