وَلَذِکْرُاللّٰہِ اَکْبَرُ
اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے
یعنی سب سے بڑی نعمت ،سب سے بڑ ی فضیلت ، سب سے بڑی برکت ،باعثِ نجات اورباعث رفعِ درجات ہے۔
کیا ذکر جہری حرام یا مکروہ ہے؟
قرآن وحدیث اورفقہی عبارات کے آئینہ میں
اس سوال کا مفصل جواب دیا گیا ہے،نیز سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے
اوراد ووظائف اور معمولات پر بھی کچھ گفتگو کی گئی ہے۔

(تالیف)
خالد سیف اللہ قاسمی نقشبندی عفا اللہ عنہ
خادم الحدیث والافتاء وخادم جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ
ذکر تصوف کا اصل اصول ہے اور تمام صوفیہ کے یہاںسب طریقوں پر رائج ہے جس شخص کیلئے ذکر کا دروازہ کھل گیا ہے اس کے لئے اللہ جل شانہ تک پہونچنے کا دروازہ کھل گیا ، اور جو اللہ جل شانہ تک پہونچ گیا وہ جو چاہتا ہے پاتا ہے کہ اللہ جل شانہ کے پاس کسی چیز کی بھی کمی نہیں ہے ۔
(فضائل ذکر: مصنفہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب ص٣٥٣)۔