ہوئے کسی صحابی کا اس پر تنقید کرنا محل غور ہے اور روایات صحیحہ کے مقابلہ میں حجة اور دلیل بھی نہیں بنایا جاسکتا ہے، بعض دفع بعض روایات بعض بڑے صحابہ سے بھی مخفی رہ جاتی تھیں جو دوسرے حضرات سے ان کو بعد میں معلوم ہوئی ۔
ایک بار حضرت ابو موسیٰ اشعری حضرت فاروق اعظم کی خدمت میں ملاقات کی غرض سے آئے ان کے گھر پر دستک دی، تین بار بلایا جب کوئی جواب نہیں ملا تو وہ واپس چلے گئے، فاروقِ اعظم گھر سے نکلے، گھرمیں کسی کام میں مصروف ہونگے جس کی وجہ سے نکلنے میں دیر ہوئی، جب تک ابو موسیٰ اشعری جاچکے تھے، ان کو بلوایا اور فرمایا کہ تم نے میرا انتظار نہیں کیا اور فورا چلے گئے، اس پر عرض کیا کہ یہی سنت ہے کہ تین بار بلایاجائے اگر جواب نہ آئے تو واپس ہوجائے ،فرمایاکہ کیایہ سنت ہے؟ تم اس کو سنت کہہ رہے ہواور مجھے اس کے سنت ہونے کا علم نہیں ہے اگر تم نے اس پر کوئی دلیل قائم نہ کی تو تمہاری پٹائی کی جائے گی ، حضرت ابو موسیٰ اشعری گھبراگئے اور دوڑکر ایک جگہ پر پہنچے جہاں صحابہ کرام کی جماعت بیٹھی تھی، صحابۂ کرام کی جماعت نے ان کو گھبراہٹ کی حالت میں دیکھا ،وجہ پوچھی تو بتایا کہ یہ بات ہوئی، انہیں حضرات میں حضرت ابو سعید خدری بھی تھے انہوں نے اس حدیث کو سنا تھا فرمایاکہ میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں اور اس کی گواہی دیتا ہوں چنانچہ وہ ساتھ ساتھ ہوگئے اور حضرت فاروق اعظم کو اس کے سنت ہونے کے بارے میں وہی حدیث سنائی حضرت ابو موسیٰ اشعری جس کا حوالہ دے رہے تھے ،یہ روایت بخاری شریف میں ہے۔ اس قسم کے اور بھی واقعات ہیں ، اس لئے ممکن ہے کہ اس قسم کی احادیث بکثرت اس وقت