حرمتِ مصاہرت اور فقہ اسلامی
عمرانہ کا واقعہ اور علما کا فتویٰ


تمہید
اتر پردیش کے ایک ضلع مظفر نگر کے ایک گاؤں میں’’ عمرانہ‘‘ نامی ایک عورت کے خسر نے اس کو اپنی ہوس کا شکار بنا لیا ،جس پر وہاں کے جاہلوں کی پنچایت نے ایک قانون پا س کیا ،کہ وہ عورت اب اپنے اسی خسر کے ساتھ شادی کر لے اور علما نے یہ فتویٰ دیا کہ وہ عورت نہ اس کے خسر کے لیے حلال ہے، نہ اس کے شوہر کے لیے حلال ہے ؛بل کہ وہ دونوں پر حرام ہے ۔ اخبارات ،جرائد و رسائل اور الکڑانک میڈیا سب کے سب اس وقت اسی گھناؤنے اور شرمناک واقعے کے تذکرے اور اس پر تبصرے میں ہمہ تن مشغول ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اس دور کا سب سے بڑا مسئلہ ان کے نزدیک یہی ہے ۔
اس میں شک نہیں کہ عمرانہ کے ساتھ اس کے خسر کا یہ شرمناک اور انتہائی گھناؤنا کردار ،موجودہ دور میں انسانیت کی ذلت و پستی کی ایک المناک تصویر ہے ، جس پر جس قدر بھی افسوس کیا جائے کم ہے ؛مگر حیرت ناک وافسوسناک بات یہ ہے کہ آج