(ایک نفس دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھا ئے گا۔) (۱)
ایک طرف قرآن کایہ اصول ہے کہ کوئی کسی کابوجھ نہ اٹھائے گا، دوسری طرف یہ حدیث بتاتی ہے کہ زناکارکابوجھ اس کے بچے پراوراس بچے کی سات نسلوں پر لادا جائے گا، ظاہرہے کہ قرآن کے خلاف اس حدیث کوقبول نہیں کیاجاسکتاہے ؛ لہٰذااس کو رد کردیا گیا۔
بتانایہ چاہتاتھا کہ محدثین نے روایتی پہلو کے ساتھ درایتی پہلوکوبھی برتاہے، اسی اصول کے تحت زیرِبحث حدیث کو علما نے ردکردیاہے کہ یہ قرآنی تصریح کے خلاف ہے۔
ایک اوراصول
لیکن یہ اسی صورت میں قابلِ ردہے اورہوناچاہیے جب کہ حدیث کو قرآنی تصریح کے خلاف ماناجائے اورمحدثین وعلما نے جواس کوردکیاہے، وہ بھی اسی بنیادپرہے کہ یہ قرآن کے خلاف ہے اوراگراس حدیث کی ایسی تاویل ہوجائے، جس سے وہ مخالفت ِ قرآن کے الزام سے بری ہوجائے، تووہ قابلِ ردنہ رہے گی؛ کیوں کہ جس طرح محدثین نے روایت کے مخالفِ قرآن ہونے کی صورت میں اس کے قابل ِ رد ہونے کا اصول مقررکیاہے، اسی طرح انہی حضرات نے یہ اصول بھی بتایاہے کہ اگر حدیث تاویل کے ذریعے مخالفتِ قرآن سے نکل جائے، توقابل ِقبول ہوسکتی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ جہاں یہ اصول بتایاگیاہے کہ ایسی حدیث قبول نہیں کی جائے گی، جس کامدلول قرآن سے متصادم ہو،وہیں یہ بھی لکھاگیاہے کہ
’’حیث لایقبل شیٔ من ذلک التاویل‘‘۔ (۲)
------------------------------
(۱) اس مضمون کی آیات قرآن میں درجِ ذیل مقامات پروارد ہوئی ہیں:الانعام :۱۶۴،
الاسرا؍ : ۱۵، فاطر : ۱۸، الزمر :۷، النجم : ۳۸
(۲) فتح المغیث: ۱/۳۶۹، نزھۃ النظرلابن حجر:۶۱