یعنی وہ قاعدہ واصول اس وقت ہے،جب کہ کوئی قابلِ اعتبارتاویل اس میں نہ چل سکتی ہو۔اور علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ
’’ وأما المعارضۃ مع إمکان الجمع فلا ‘‘۔
(لیکن قرآن و حدیث یا اجماع سے معارضہ دونوں میں تطبیق و جمع کے ممکن ہونے کے ساتھ ہو، تو یہ موضوع ہونے کی دلیل نہیں۔) (۱)
اور علامہ امیر صنعانی رحمہ اللہ نے ’’توضیح الأفکار‘‘ میں فرمایا کہ
’’وھذا إنما یأتي حیث لایمکن الجمع بوجہ من الوجوہ ، أما مع إمکان الجمع فلا ‘‘۔
(اور یہ معارضے کی بات وہاں حاصل ہوتی ہے، جہاں دونوں میں کسی بھی طرح سے تطبیق وجمع ممکن نہ ہو؛لیکن دونوں میں جمع وتطبیق کے امکان کے ساتھ نہیں ہو سکتی۔) (۲)
معلوم ہواکہ اگرکوئی تاویل ایسی اس میں چل جائے؛ جوقابلِ اعتبارہو،توپھر وہ حدیث قابلِ قبول ہوجاتی ہے،اور اس صورت میں اس کو موضوع نہیں کہا جائے گا۔ خلاصہ یہ نکلاکہ حدیث کامفہوم ومدلول بہ ظاہرقرآن سے معارض ومتصادم ہے، تو اگر اس میں تاویل کی گنجائش نہ ہو،تووہ قابلِ ردہے اوراگرتاویل کی گنجائش ہو،تومقبول ہے۔
پھر وہ تاویل کاعمل چوں کہ ایک اجتہادی کام ہے، ہوسکتاہے کہ اس میں اختلاف ہو، بعض کے نزدیک وہ تاویل قابلِ اعتبارنہ ہو،لہٰذاوہ بہ دستورحدیث کو ناقابلِ اعتبارقراردیں اوربعض کے نزدیک وہ تاویل قابلِ اعتبارہو، لہٰذاوہ حدیث
------------------------------
(۱) تدریب الراوی:۱/۲۷۶
(۲) توضیح الافکار: ۲/۹۶