سنبھل کر چلتا رہا آخر کار اپنی منزل تک پہنچ ہی گیا۔ کیونکہ اسے معلوم تھا کہ :
جو ہچکچا کے رہ گیا سو رہ گیا ادھر
جس نے لگائی ایڑ وہ خندق کے پار تھا
اب یہ ’’نظامِ نظامت‘‘ سے موسوم ہوکر کتابی شکل میں آپکے سامنے ہے مجھے امید ہے کہ آپ اسے قبولیت کی نگاہوں سے دیکھیں گے اور اگر اس میں کچھ خامیاں ہوئیں تو اصلاح فرمائیں گے اور احقر کو اپنی دعائوں میں بھی ضرور یاد رکھیں گے۔
طالب دعاء
محمد آفتاب اظہرصدیقی کشن گنجوی
۵؍اپریل ۲۰۱۲ء؁مطابق ۱۲؍جمادی الاولیٰ ۱۴۳۳؁ھ
مکتبہ عندلیب دیوبنددینی،درسی،ادبی اور طبی کتابوں کا مرکزمناسب قیمت پر بذریعہ ڈاک؍کوریئر کتابیں حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیجیے۔مکتبہ عندلیب دیوبندموبائل:9568136926 / 9557597315ای میل:andleeburdu@gmail.com