اناؤنسر کوچاہئے کہ ہر مقرر یا شاعر کومع سکونت کے آوازدے اور سکونت سے پہلے صاحب لگائے (بعد میںنہ لگائے )جیسے مولانا محمد آصف صاحب بھنکر دواری، مولانا شاہ کامل صاحب قاسمی بھنکر دواری ،مو لانا مسعود صاحب کشن گنجوی، مولانا عرفان صاحب مظفر پوری ،مولانا ندیم صاحب جوالا پوری ،مولانا بدرالدین صاحب نگینوی۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک نام کے دومقرر پرو گرام میں جمع ہوجاتے ہیں تو ایسی صورت میں بغیر سکونت کے اگر ان میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو یا تو دونوں ایک ساتھ اٹھ کر آنے لگیںگے یا جنہیں بلانا مقصود ہے وہ بیٹھے رہ جائیں گے اور ان کے ہم نام تشریف لے آئیں گے ۔
اناؤنسر جن مقرر صاحب کو دعوت دے رہاہے ان کے بارے میں اسے معلوم ہونا چاہئے کہ وہ تقریر کس طرح کی کرتے ہیں ،ان کا اندازکیسا ہے ان میں شعلہ بیانی ہے یا شیریں بیانی ہے، کبھی لا علمی کی وجہ سے ایک ناصح مقرر کے لئے جن کے بیا ن میں ذرا بھی چیخ وپکا ر نہیں ہوتی اناؤنسر ایسے تعریفی جملے کستا ہے کہ خود مقرر کوشرم آنے لگتی ہے مثلا’’اب میں ایسے شعلہ بیا ن خطیب کودعوت خطابت دینے جارہاہوں جن کی آوازمیں وہ کڑک ہے کہ جسے سن کر زمین کا نپنے لگتی ہے آسمان پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے پہاڑ تھرانے لگتے ہیں ،،یاد رہے کہ مقرر یا نعت خواں کا تعارف ان کے کمال وہنر کے مطابق کرایا جائے معاملہ بر عکس نہ ہو۔
بہر حال اچھے جملوں ، خوبصورت استعاروں ، اور عمدہ اشعارکے ساتھ دعوت دینا نظامت کا کمال ہے مقر ر کتنا مشہور ومعروف ہے ، اس کی شہرت کا ڈنکا کتنی دور تک ہے ، وہ میدان خطابت کا شہسوار ہے یا خطابت کی دہلیزپرابھی ابھی قدم رکھا ہے ان سب باتو ں سے واقف ہونابھی اناؤنسر کے لئے بیحد ضروری ہے۔