مشہور ہے کَلاَمُ الْمُلُوْکِ مُلُوْکُ الْکَلاَمِ بادشاہوں کا کلام‘ کلاموں کا بادشاہ ہوا کرتاہے ،توآیئے اس رب ذوالجلال کی حمد وثنا کے ساتھ ،ا س کے پاک کلام یعنی قرآن مجید کی تلاوت سے ہم اپنی محفل کا آغاز کریں جس کے لئے میںدعوت دے رہاہوں تالی ِ قرآن، قاریِ خوش الحان،جناب محمد ……صاحب کو وہ آئیں اور تلاوتِ کلام اللہ سے محفل کا آغاز فرمائیں ۔
قرآںکی تلاوت سے آغاز ہومحفل کا
اس نورسے پاجائیںہم راستہ منزل کا
(۲)دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے اس پہلوپر بولنا شروع کریںجس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصافِ حمید ہ یا معجزاتِ عجیبہ کا بیان ہوپھر آپ ﷺکے معجزئہ کبریٰ یعنی قرآن کریم کی بات زیر لب لا کر قاری کو آوز دیں :
مثلاً :
حضرات! اللہ تعالی نے اس دنیا میںکم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کو مبعوث فر مایا پھر ان میں سے جسے چاہا مقتضائے وقت کے مطابق معجزات عطاکئے چنانچہ حضرت داؤد علیہ السلام کے ہاتھوںکو معجزہ کے طور پر وہ ہنر دیا گیا تھا کہ فولاد کوموم کی طرح مسل کر رکھ دیا کرتے تھے ،حضرت سلیمان علیہ السلام کا منجملہ تمام معجزات کے ایک معجزہ یہ تھا کہ وہ ہر جاندارمخلوق کی آواز سن کر اس کو سمجھ لیا کرتے تھے حضرت موسی علیہ السلام کومنجملہ دیگر معجزات کے ایک معجزہ عصاکے طورپر دیا گیا تھا جس نے اس جادوی دور کے تمام فرعونی جاد وگروں