(۲)…حضرات !قرآن حمید کی پاکیزہ آیتوں کی تلاوت سے محفل میںنورانیت چھا گئی ہے، یوں محسوس ہورہاہے کہ موسم بہار اپنی تمام تر نیرنگیوں کے ساتھ سامانِ فرحت ومسرت لئے گلشن ِقلب وضمیر میں جلوہ فگن ہے ۔
دوستو!قرآن مجید کی دل آرائیوں نے قلبوں کو آرستہ کردیا ،اس کی دلآویزی نے دلوںکو خوب لبھایا ،اس کی دلبری نے دلوں کو موہ لیا ، اس کی دل نشیں تلاوت سے دل باغ باغ ہو گیا اور قاری صاحب نے بھی بڑے دلکش انداز میں قرآن پاک کی تلاوت فرمائی۔ حضرات !قرآن کریم میں وہ نسخہ ٔ کیمیا ہے کہ جو اسے سن لیتا ہے اس کے دل کی دنیا بدل جاتی ہے ۔
جی ہاں!قرآن کریم کی تلاوت کے بعد اب مناسب ہے کہ ایک ایسے شاعرِاسلام کو آواز دی جائے جس کی بلبل نو ائی میں خدا کی حمد کا ترانہ ہو جواپنی بہترین ،عمدہ ، نفیس اور حسین آواز میںحمدیہ کلام پیش کرکے دل کے دریائوں میں فرحت و طمانیت اور سرور وانبساط کی لہردوڑادے میری آرزو اور تمناہے کہ میں جناب …………صاحب کو اس شعر کے ساتھ دعوتِ اسٹیج دوں کہ ۔
خروش آموزبلبل ہوگرہ غنچے کی وا کردے
کہ تو اس گلستا ں کے واسطے بادِ بہاراں ہے
جناب ………صاحب مائک کے سامنے :

(۳)…حاضرین کرام !جس دنیا میں ہم اور آپ بستے ہیںجس میں کبھی آدم کبھی نوح کبھی ابراہیم کبھی اسرائیل کبھی یو نس کبھی یوسف کبھی موسیٰ کبھی عیسیٰ علیھم الصلاۃ والسلام اور ان کی اولاد بسی اور جس میںقیامت تک آنے والی مخلوق