{دعوت برائے خطابت کے مختلف طریقے}
(۱)…پہلا طریقہ یہ ہے کہ ہم فن خطابت پر تھوڑ ی دیر لب کشائی کریں یعنی خطابت کی اہمیت کو بتائیں اور خطیب کو دعوت ِخطابت دیں ۔
مثلاً
حضرات !تاریخ ِ انسانی شاہد ہے کہ خطابت نے چمنستانِ عالم میں کیسے بڑے بڑے کا رنامے انجام دیے ہیں ۔خطابت نے ایمان ویقین کی شمعیں روشن کی ہیں رشدو ہدایت کے دریا بہائے ہیں ،اس نے انسا نوں کو قیدو بند کی زندگیوں سے آزاد کیا ہے ، مظلوموں کو ظلم وجبر کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کا حوصلہ دیا ہے، ظالموںکی حکومت میں تباہی مچائی ہے ،کمزورں کو اپنے حق کے لئے لڑنا سکھایاہے اس نے قلعوں کے قلعے فتح کئے ہیں ، میدانوں کے میدان جیتے ہیں۔خطابت نبی کی زبان سے عیاں ہوئی تو دعوت وہدایت بن گئی ،جب واعظ کی زبان سے آشنا ہوئی تو نصیحت بن گئی، جب مجاہد نے اسے اپنا یا تو نعرئہ انقلاب بن گئی ،جب کسی قائد یا لیڈر نے اسے اختیا ر کیا توترانہ ٔسیا ست بن گئی؛ الغرض خطابت نے ہر زمانے کے اندر الگ الگ رنگ وروپ میں اپنا جو ہر دکھایا ہے؛ کیونکہ خطابت میں جادوہے ،سحر ہے ،تاثیر ہے ۔ شاعر کہتا ہے :
خطا بت وجد میں آئے تو پھرہتھیار بن جائے
کبھی نیزہ کبھی خنجر کبھی تلوار بن جائے
خطابت کی گلفشانی مسلّم ہے زمانے میں
یہ نجاشی کے آگے جعفرِ طیار بن جائے