دماغوںسے اٹھا کر دلوں میں اتار رہا ہے سننے والے محسوس کرتے ہیں کہ ان کی گمشدہ متاع مل رہی ہے اور وہ ان جوا ہر پاروں سے دامن بھر رہے ہیں جن کی تلاش میں تھے ۔
آیئے! ایسے ہی ایک خطیب کودعوتِ خطابت دے کر ان کی خطابت کے جو ہر پاروں سے ہم اپنے دامن کو بھریں۔ میں بڑے ادب واحترام کے ساتھ درخواست کروں گا حضرت مولانا ……صاحب سے کہ وہ تشریف لائیں اور محفل میں خطابت کا جادو چلائیں۔
اس قطعہ کے ساتھ کہ:
نام اس کا ملت ِ بیضا کے پروانوں میں ہے
وہ بہر صورت عظیم الشان انسانوں میں ہے
ولولہ اسلام کا اس کی رگوں میں ہے رواں
لرزہ اس کی فکر سے باطل کے ایوانوں میں ہے
(۲)دوسرا طریقہ :یہ ہے کہ ہم صرف خطیب کے مو ضوع کا تذکرہ کر کے اسے دعوت دیں ۔
مثلاً:
حضرات! اب میں ایک ایسے مقرر کو دعوت دینے جا رہا ہوں جن کا موضوعِ سخن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی وہ پاکیزہ جماعت ہے جومحبت و مروت،اخوت وموافقت ، فہم وفراست ،جرأت وجسارت ،عزم وہمت ،حکمت ودرایت ،امانت ودیانت ،صداقت وحقانیت ،عبادت وریا ضت ، عقیدت