وشفقت ،حیا وعزت ،وفا وسخا،اجتہادو اعتماد ،حسنِ اخلاق وکردار ، خوش اطوار وگفتار، تسلیم وتوکل ،ثبات واستقلا ل ،فـضل وکمال ،ایمان واحسان ،انابت الی اللہ ، انفاق فی سبیل اللہ ،ایثار وانکساری ،خامو شی و برد باری ،خشیت ِالٰہی وشب بیداری ،فاقہ کشی وجاں نثاری ،پاکی وپاکیزگی اور سب سے بڑھ کر عشق ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لحاظ سے نرالی اور امتیازی شان رکھتے تھے۔ جنہیں ان کی زندگی میں ہی دعوتِ اسلام پر لبیک کہنے کے باعث ،اِعلائے کلمتہ اللہ کی خاطر صعوبتیں اور کلفتیں جھیلنے کے باعث ،گھر وطن چھوڑ کر راہِ خدا میں جہاد کرنے کے باعث، آپس میں رحم دل اور کافروں سے مقابلے میں تیز ہونے کے باعث رضی اللہ عنہم ورضو عنہ کا تمغہ دیا گیا ،اسی موضوع پر تفصیلی گفتگوکرنے کے لئے آپ حضرات کے سامنے تشریف لا رہے ہیں خطیب با کمال، مقررِ بے مثال،جاں نثارِ صحابہ، حضرت مولانا ……صاحب دامت برکاتہم العالیہ۔
ان اشعار کے ساتھ کہ:
وہ جن کا تذکرہ موجود ہے قرآں کے پاروںمیں
ہے قدرو منزلت جن کی فلک کے چاند تاروں میں
انہی کی سیرت وکردار کی باتیں سنائو تم
شرابِ علم کی محفل میںسوغاتیں لٹائو تم
(۳)…تیسر ا طریقہ: یہ ہے کہ ہم نہ توفن خطابت کی اہمیت کو اجاگر کرکے خطیب کو دعو ت دیں اورنہ ان کے مو ضوع کو بتاکر ان سے در خواست کریں ؛بلکہ صرف ان کا اچھا سا تعارف کرادیں اور ان سے تشریف لانے کی درخواست کریں۔