نعت ِنبی ﷺ کے بعد :
رسالت کوشرف ہے ذاتِ اقدس کے تعلق سے
نبوت نازکرتی ہے کہ ختم الانبیا تم ہو
کہا ں ممکن تمہاری نعت حضرت ﷺ مختصر یہ ہے
دوعالم مل کے جو کچھ بھی کہیں اس سے سوا تم ہو
حضراتِ سامعین !یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارے نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم میںاللہ تعالی نے نہایت اعلیٰ اوصاف، نہایت اچھی عادتیں اور خصلتیں ودیعت رکھی تھیں؛ بلکہ تمام نبیوں،رسولوںاور ساری اولادِ آدم کے اوصافِ حمیدہ اور خصائل ِعالیہ کو حضور ﷺ کی ذات ِاطہر میں موتیوں کی طرح پرو دیا گیا تھا؛ یہی و جہ تھی کہ آپ سراپا حسن ہی حسن، تعریف ہی تعریف، خو بی ہی خوبی تھے اور جس کا نام ہی اتنا پیار ا، اتنا دلکش، دلکشا ،دلربا ، دلنواز ،روح پرور ،عطر بیز، عنبربار ،بلاغت آمیز اور ذخیرئہ حسن ِدوجہاں ہوتو بھلا ا س کی ذات تمام اولا د ِآدم کے حسن وجمال، اوصاف وکمال ،تعریفوں ،خوبیوں ، صفتوں ،بھلائیوں ، نیکیوںاور پاکیزہ سیرتوں کا مجموعہ کیوں نہ ہوتی؛ آپ ﷺ کوتو اسم با مسمّـی بنایا گیا تھا۔
ولکل نبی فی الانام فضیلۃ
وجملتہا مجموعۃ لمحمد
ما ان رأیت ولا سمعت بمثلہ
فی الناس کلھم بمثل محمد