دعوت برائے خطابت (۱)
میرے عزیز دوستو !پیارے بھا ئیو !بڑے بزرگو !آج ہماری محفل کو روشن اور تابناک بنانے کے لئے، ہمارے اجلاس کو تاریخی اور یاد گار بنانے کے لئے اسٹیج پر ایسی ایسی روشن ہستیاں جلوہ افروز ہیں جن کی زیارت اور ملاقات عبادت ،جن کے فرمودات وارشادات خیر وفلاح، برکت وسعادت ،جن کا مشغلہ تبلیغ وتربیت، جن کا راستہ راہ ِسنت ،جن کا مقصد صرف اور صرف دین ِ خدا وندی کی خدمت ہے۔ تولیجئے ان ہی میں سے ایک شخصیت کو میں بڑے ادب واحترام کے ساتھ دعوتِ خطابت دیتا ہوں میری مراد، عزت مآب حضرت مولانا ……صاحب سے ہے، حضرت تشریف لائیں اور اپنے مواعظ ِحسنہ سے ہم سامعین کو مستفیض فرمائیں۔ اس شعر کے ساتھ کہ :
ہم نے ہر منزلِ امکاں پہ جلائے ہیں چراغ
ورنہ ہر قافلہ راہوں میں بھٹکتا ہوتا
{بعد خطابت}
ویران مسجدیں ہیں سونی ہیں خانقاہیں
پہچان اب ہماری ملتی نہیں کہیں سے
بدر و حنین وخندق، خیبر کی سرزمیں کو
اے میرے گم شدہ دل آواز دے کہیں سے
حضرات !حضرت مولانا نے ہمیں بہت ساری قیمتی باتوں سے نوازا اور بڑے اچھے انداز میں وعظ فرمایا ہم آپ کے بہت شکر گزا ر ہیں اور اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں سننے سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق بخشے ۔