دعوت برائے خطابت (۲)
اب میں آپ حضرات کے سامنے ایک ایسے مقرر اور خطیب کودعوتِ خطابت دینے کی آرزو رکھتا ہوں جن کی آواز عام آوازوں کی طرح نہیں جو منھ سے نکلتے ہی فضا میں حل ہو کر فنا ہو جائے اور نہ ہی ان آوازوں کی طرح ہے جو صرف آڈیو ویڈیو میں قید ہو کر ہزار وںکا نوں کی تفریح کا سامان بن کر رہ جاتی ہیں؛ بلکہ ان کی آواز تو وہ آواز ہے جو سینوں میں اپنا آشیانہ بنالیتی ہے ،دلوں کو اجاگر کردیتی ہے احساسوںکو بیدار اور آنکھوں کواشکبار کردیتی ہے ،جن کے سوز ِ دل اور دردِ جگر کے ساتھ جو بھی تار نفس نکلتا ہے وہ دمِ ِ عیسیٰ ہوتاہے جسے سن کرقبروںکے مردے بھی جھر جھری لیکر کھڑے ہو جاتے ہیں ؛بلکہ وہ ید ِبیضا ہوتاہے جو پتھر کو بھی پانی کر دیتاہے، ان کے الفاظ میں ان کا دل سلگتا اور خون بولتا ہے، ان کے جملے دریا ئی لہروں کی طرح رواں دواں ہو تے ہیں، ان کی آواز میں وہ تندِ سیلانی ہے کہ طوفانوں کا مقابلہ کرے، ان کے لہجے میں وہ سحرہے کہ ہوائیں رک کر اور وقت ٹھہر کر سنے، وہ بیان نہیں کرتے عقلوں کا شکار کرتے ہیں اور اپنی زورِبیانی سے مجمع کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں، ان میں دماغوں سے کھیلنے کا ہنر اور دلوں کو دہلانے کا جوہر ہے، وہ شعلہ کی ما نند بھڑ کتے اور بجلی کی طرح کڑکتے ہیں، ان میں پکار اور للکار دونوں ہے میری مراد حضرت مولانا ……صاحب کی شخصیت سے ہے، میںان سے التماس کرتا ہوں کہ تشریف لائیں اور اپنی شعلہ بار خطابت سے ہمیں مستفیض فرمائیں۔
{بعد خطابت}
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پر واز مگر رکھتی ہے