دولت کی چاہ ہے نہ خزینے کی آرزو
ہم کو فقط ہے خاکِ مدینے کی آرزو

وہ سحر آلود نغمہ وہ خمار آلود راگ
جوکہ دل میں تہ بہ تہ بیدار کردیتی ہے آگ
بجلیوں کی رو میں غلطیدہ وہ لحن ِ جاں نواز
دل کی دھڑکن کو عطا کرتاہے جو سوز و گداز
اُف وہ نغمہ جس کو کہتے ہیں تمنائے بہار
کو ئلوں کی کوک ، ساون میں پپیہوں کی پکار

نعت ہی دل کے دھڑکنے کا ذریعہ ہے ندیمؔ
نعت ہی میری سماعت، مری بینائی ہے
نعت ِ سرکارِ دوعالم ہی کہے جاؤ سدا
ورنہ کس کام کی یہ نعمت ِ گویائی ہے