{نـعــت خــوانـی کــے بــعــد }
مرمر سے تراشا ہوا یہ چاند سا پیکر
ہونٹوں سے محبت کے یہ رس گھول رہا ہے
جب نعت یہ پڑھتا ہے تو ہوتا ہے یہ محسوس
انسان نہیں تاج محل بول رہا ہے

اک برقِ طپاں ہے کہ تکلم ہے تمہارا
اک سحر ہے لرزاں کہ ترنم ہے تمہارا

شعورِ زیست ملا فکرِ آگہی اتری
رسولِ پاک کے صدقے میں زندگی اتری
خیال آیا تھا ماہِ عرب کے جلووں کا
تمام رات مرے گھر میں چاندنی اتری

کی محمد ﷺ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں