وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر
اور ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر

یہ خود محروم ہوکر رہ گیا شمشیرِ ایماں سے
وگرنہ آج بھی دنیا لرزتی ہے مسلماں سے

یہ نہ پوچھو گفتگو میں کیا اثر رکھتا ہے وہ
سنگ دل کو موم کرنے کا ہنر رکھتا ہے وہ

آب ہوجاتے ہیں ننگ ہمتِ باطل سے مرد
اشک پیدا کر اسدؔ گر آہ بے تاثیر ہے

کیا ہے ترکِ دنیا کاہلی سے
ہمیں حاصل نہیں بے حاصلی سے
پر افشاں ہو گئے شعلے ہزاروں
رہے ہم داغ اپنی کاہلی سے