۸۳ فعل متعدی کی قسمیں ۸۹ ۹۰ اسم فاعل ۹۷
۸۴ افعال قلوب ۹۰ ۹۱ اسم مفعول ۹۸
۸۵ افعال ناقصہ ۹۱ ۹۲ اسم تفضیل ۹۸
۸۶ افعال مقاربہ ۹۲ ۹۳ مصدر،اسم مضاف ۹۹
۸۷ افعال شروع وتعجب ۹۳ ۹۴ اسمائے کنایہ ۱۰۰
۸۸ افعال مدح ذم ۹۵ ۹۵ عوامل معنوی ۱۰۱
۸۹ اسمائے عاملہ ۹۶ ۹۶ حروف غیر عاملہ ۱۰۱

0فائدہ: جملہ میں جار مجرور مل کر ہمیشہ متعلِّق ہوتا ہے کسی فعل کے جب کہ جملہ فعلیہ ہو ،یا شبہ فعل کے متعلق ہوتا ہے جب کہ جملہ اسمیہ ہو۔ جار مجرور جس کے متعلق ہوتا ہے اس فعل یا شبہ فعل کو مُتَعَلَّقْکہتے ہیں ،
جیسے :دَخَلَ زَیْدٌ فِی الْمَسْجِدِ (اس مثال میںفِی الْمَسْجِدِ متعلِّقاوردَخَلَ فعل مُتَعَلَّقْ)، زَیْدٌ ذَاھِبٌ إِلٰی الْمَدْرَسَۃِ(اس مثال میں إِلٰی الْمَدْرَسَۃِ متعلق اور ذَاھِبٌ شبہ فعل مُتَعَلَّقْ)
٭کبھی یہ مُتَعَلَّقْ محذوف ہوتا ہے جیسے بِسْمِ اللّٰہِ(اللہ کے نام سے)تواس سے پہلے موقع کے مناسب کوئی بھی فعل متعلق محذوف مان سکتے ہیں،جیسے أَقْرَأُ (میں پڑھتا ہوں )،أَکْتُبُ (میں لکھتا ہوں )، أَبْدَأُ(میں شروع کرتا ہوں )
اور جملہ اسمیہ میں کوئی شبہ فعل مان سکتے ہیںجیسے زَیْدٌ فِی الدَّارِ میں فِی الدَّارِ سے پہلے جَالِسٌ، قَائِمٌ، نَائِمٌ شبہ فعل محذوف مان سکتے ہیں،اور اسی کے مطابق تر جمہ کرتے ہیںجیسے اگر جَالِسٌکو محذوف مانیں تو ترجمہ ہوگا، زید گھر میں بیٹھا ہے۔
ترکیب:زَیْدٌ فِی الدَّار: زَیْدٌ مبتدا،فِی الدَّارجار مجرور مل کر متعلق ہوا جَالِسٌ شبہ فعل محذوف کے،جَالِسٌ شبہ فعل محذوف اپنے متعلق سے مل کرخبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
سبق(۷۶)
حروف مشبہ بالفعل
حروف مشبہ بالفعل: یہ حروف لفظاً،عملاً اور معنیً فعل متعدی کے مشابہ ہوتے ہیں۔ مبتدا خبر پر داخل ہوتے ہیں، مبتداکو اپنا اسم بناکر نصب دیتے ہیں اور خبر کو اپنی خبر بنا کر رفع دیتے ہیں،اور یہ چھ ہیں:
(۱) إِنَّ(۲) أَنَّ(۳) کَأَنَّ(۴)لَیْت(۵)لٰکِنَّ(۶)لَعَلَّ
مثالیں: إِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ،وَاعْلَمُوْا أَنَّ اللّٰہَ غَنِیٌ حَمِیْدٌ،کَأَنَّہُنَّ الْیَاقُوْتُ، یَالَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرَابًا،لٰکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَایِعْلَمُوْنَ،لَعَلَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا۔
٭ حروف مشبہ بالفعل کے بعدکبھی ’’ما کافہ‘‘ لگتا ہے جو ان حروف کے عمل کو ختم کردیتا ہے،اسی طرح ما کافہ کے ساتھ یہ افعال پر بھی داخل ہوجاتے ہیں،
جیسے: إِنَّمَا إِلٰہُکُمْ إِلٰہٌ وَاحِدٌ اورجیسےإِنَّمَا یُوْحٰی،کَأَنَّمَا یُسَاقُوْنَ۔
(پہلی مثال میں إِلٰہُکُمْ پر إِنَّ نے عمل نہیں کیا ،دوسری مثال میں اِنَّ فعل پر داخل ہو رہا ہے
،ان حروف کے بعد ضمیر منصوب متصل ان کا اسم بنتی ہیں،جیسے :کأنھن الیاقوت والمرجان )

سبق(۷۷)
{مَا ولَاْمشابہ بلیس}
مَا ولَاْمشابہ بلیس:یہ دونوںعملاًاورمعنیً لَیْسَ کے مشابہ ہوتے ہیں،
عمل میںاپنے اسم کو رفع اور خبر کو نصب دیتے ہیں،اور معنی میں اپنے اسم سے خبر کی نفی کرتے ہیں، جیسے :مَا زَیدٌ قَائِماً، لَاْ رَجُلٌ حَافِظاً۔
٭ما و لا کی خبر سے پہلے اگر حرف استثناء آجائے تو ا ن کا عمل باطل ہو جاتا ہے ،
جیسیــ: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلّا رَسُوْلٌ
مثالیں :لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ،لَا غَوْلٌ فِیْہَا، وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ، مَا ہٰذَا بَشَرًا
لائے نفی جنس:وہ لا ہے جو اپنے اسم کے ہر فرد سے خبر کی نفی کردے ،
جیسے: لَا إِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ( دین میں کسی قسم کا کوئی جبر نہیں ہے)
٭لائے نفی جنس کا اسم اگر مفرد ہوگا تو فتحہ پر مبنی ہوگا ، جیسے: لَاْ رَجُلَ فِي الدَّارِ۔
٭ اگراس کا اسم مضاف یا مشابہ مضاف ہوگا تو منصوب ہوگا ،جیسے:لَا طَالِبَ مَدْرَسَۃٍ حَاضِرٌٌ (مدرسہ کا کوئی طالب علم حاضر نہیں) ۔
٭اگر لا اور نکرہ کے درمیان کوئی فاصل ہو تو بھی نکرہ مرفوع ہوگا۔
جیسے: لَا فِیْ الدَّارِ رَجُلٌ وَ لَا اِمْرَأَۃٌ۔
مثالیں:لَارَیْبَ فِیْہِ،لَاجُنَاحَ عَلَیْھِنَّ،لاصَلٰوۃَ لِمَنْ لا وُضُوْئَ لَہٗ،لا إِیْمَانَ لِمَنْ لا أَمَانَۃَ لَہٗ۔
سبق(۷۸)
{حروف عاملہ در فعل مضارع}
فعل مضارع میں جو حروف عمل کرتے ہیں ان کی دو قسمیں ہیں:
(۱) حروف ناصبہ (۲) حروف جازمہ۔
{حروف ناصبہ}
حروف ناصبہ چار ہیں:
(۱)أَنْ (۲) لَنْ(۳) کَیْ(علت)(۴) إِذَنْ(جواب)۔
یہ چاروں فعل مضارع پر داخل ہوتے ہیں اور پانچ صیغوں کو نصب دیتے ہیں،سات صیغوں سے نون اعرابی گرادیتے ہیں۔
مثالیں:(۱)أَنْ جیسے اُرِیْدُ أَنْ اَتْلُوَالْقُرْٰانَ (میں قران پڑھنا چاہتا ہوں)۔
( أَنْفعل کو مصدر کے معنی میں کردیتا ہے، اس لئے اس کو أَنْ مصدریہ بھی کہتے ہیں۔)
(۲)لَنْ جیسے لَنْ یَّذْہَبَ عَمْرٌو۔( لَنْ نفی تاکید کے لئے آتا ہے۔)
(۳) کَیْ جیسے اَسْلَمْتُ کَیْ أَدْخُلَ الْجَنَّۃَ، (کَیْکے معنی تاکہ)
(۴) إِذَنْ جیسے إِذَنْ أَشْکُرَکَ،( إِذَنْ کے معنی تب تو)
(یہ اس وقت اس شخص کے جواب میں کہا جائے جو کہے: أَنَا أُعْطِیْکَ دِیْنَارًا۔)

سبق(۷۹)
{أن مقدرہ}
أَنْ کچھ حروف کے بعد مقدر ہوتا ہے اور فعل مضارع کو نصب دیتا ہے۔
(۱) حَتّٰی:ّٰ جیسے: لَنْ تَنَالُواالْبِرَّ حَتیّٰ تُنْفِقُوْا۔( یہاںنون اعرابی گر گیا)
(۲) لام جَحَدْ(انکار)جیسے :مَاکَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ۔:
(لام جحد وہ لام ہے جوکان منفی کی تاکید کے لئے اس کی خبر پر آتا ہے)
(۳) أَوْ : جو إِلٰی أَنْ، یَا، إِلَّا أَنْ کے معنی میں ہو، جیسے: لَأَ لْزَمَنَّکَ أَوْ تُعْطِیَنِي حَقِّي أَيْ إِلٰی أَنْ تُعْطِیَنِي حَقِّي (یہ أَوْ بمعنی إِلٰی أَنْ کی مثال ہے)،
اورجیسے لَأَنْصَحَنَّ الْکَافِرَ أَوْ یُسْلِمَ، (یہ أَوْ بمعنی إِلاَّأَنْ کی مثال ہے۔)
(۴)لامِ کَیْ:(وہ لام جو وجہ بتلانے کے لیے آتا ہے):جیسے: لَا تُحَرِّکْ بِہ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہ۔
(۵)فَا جو چھ چیز کے جواب میں ہو ۔
(۱)امر:جیسے زُرْنِي فَأُکْرِمَکَ
(۲)نہی :جیسے لَاْ تَشْتِمْنِيفَأُہِیْنَکَ
(۳)نفی: جیسے لَا تَاْتِیْنَا فَتُحَدِّثَنَا
(۴)استفہام :جیسے أَیْنَ بَیْتُکَ فَأَزُوْرَکَ
(۵) تمنی : جیسے لَیْتَ لِي مَالًا فَأُنْفِقَ مِنْہُ
(۶) عرض:جیسے أَلَاْ تَنْزِلُ بِنَا فَتُصِیْبَ خَیْرًا
(جواب میں آنے کا مطلب یہ ہے کہ جو چھ چیزیں ہیں، وہ جملہ انشائیہ کی چھ قسمیں ہیں اور جملہ انشائیہ میں مخاطب سے کچھ طلب کیا جاتا ہے،جو اس چیز کا جو نتیجہ ہوتا ہے، اسی کو جواب کہتے ہیں،ان تمام مثالوں میں ف کے بعد فعل مضارع کے صیغے ہیں جو منصوب ہیں)

سبق(۸۰)
{حروف جازمہ}
حروف جازمہ پانچ ہیں :
(۱) لَمْ (۲) لَمَّا(۳) لام امر(۴)لائے نہی (۵) إِنْ شرطیہ
یہ فعل مضارع کے پانچ صیغوں کو جزم دیتے ہیں،سات صیغوں سے نون اعرابی گرادیتے ہیں۔
٭لَمْ اور لمَّا:یہ دونوں فعل مضارع کو ماضی منفی کے معنی میں کر دیتے ہیں،فرق دونوں میں یہ ہے کہ ’’لَمْ‘‘مطلق نفی کے لئے آتا ہے جیسے: لَمْ َیکْتُبْ (اس نے نہیںلکھا)
اور’’لمَّا‘‘ تکلم کے وقت تک کی نفی کرتا ہے، جیسے :
لَمَّا یَکْتُبْ (اس نے اب تک نہیں لکھا)۔
٭ إِنْ شرطیہ دو جملوں پر داخل ہو تا ہے جیسے: إِنْ تَضْرِبْ أَضْرِبْ۔
(جملہ اول کو شرط اور جملہ دوم کو جزا کہتے ہیں، )
٭ إِنْ مستقبل کے لئے آتا ہے، اگر چہ ما ضی پر آئے، جیسے: إِنْ ضَرَبْتَ ضَرَبْتُ۔( جب فعل ماضی دعا کے موقع پر آئے یا اس پر حرف شرط داخل ہوتو مستقبل کے معنی میں ہو جاتی ہے۔)

سبق(۸۱)
{عمل افعال}
عمل کے اعتبار سے فعل دو طرح کا ہوتا ہے: (۱) فعل معروف (۲) فعل مجہول
فعل معروف:ایسا فعل جس کی نسبت فاعل کی طرف ہو،اوراس کافاعل معلوم ہو
فعل مجہول:ایسا فعل جس کی نسبت مفعول کی طرف ہواوراس کافاعل معلوم نہ ہو
فعل معروف کی دو قسمیں ہیں:(۱) فعل لازم(۲)فعل متعدی
فعل لازم: ایسا فعل جو فقط فاعل پر پورا ہو جائے،مفعول بہ کی ضرورت نہ ہو۔
فعل متعدی:ایسا فعل جس کو فاعل کے ساتھ مفعول بہ کی بھی ضرورت ہو۔
فعل معروف فاعل کو رفع دیتا ہے، جیسے قَامَ زَیْدٌ، ضَرَبَ عَمْرٌو۔
اور سات اسموں کو نصب دیتا ہے اور وہ سات اسم یہ ہیں:
(۱) مفعول بہ (۲)مفعول مطلق (۳)مفعول لہٗ (۴)مفعول معہ (۵)مفعول فیہ (۶)حال (۷)تمیز۔( ان کا بیان منصوبات میں گزر چکا ہے)۔
٭فعل لازم کا مفعول بہ نہیںآتا ،بقیہ چارمفعولات آتے ہیں،اور اس سے فعل مجہول بھی نہیں آتا،فعل مجہول بجائے فاعل کے مفعول بہ کو رفع دیتا ہے اور بقیہ کو نصب ،جیسے:ضُرِبَ زَیدٌ یَومَ الْجُمُعَۃِ أَمَامَ الْاَمِیْرِ ضَرْباً شَدِیدًا فِي دَارِہٖ تَادِیْباً۔
٭فعل مجہول کو فِعْلٌ مَالَمْ یُسَمَّ فَاعِلُہٗ اور اس کے مرفوع کو مَفْعُوْلٌ مَالَمْ یُسَمَّ فَاعِلُہٗ کہتے ہیں۔
فعل مجہول صرف فعل متعدی سے آتا ہے ،فعل لازم سے نہیں آتا،چنانچہ جُلِسَ زَیْدٌ نہیںکہا جائے گا۔

سبق(۸۲)
{فعل متعدی کی قسمیں}
فعل متعدی کی تین قسمیں:
(۱) متعدی بیک مفعول(جو ایک مفعول سے پورا ہو جائے)،
جیسے:ضَرَبَ زَیدٌ عَمرًوا۔
(۲)متعدی بہ دو مفعول کی دو قسمیں ہیں:
(الف) جس میںصر ف ایک مفعول پر اکتفا کرنا جائز ہے، ایسا اس وقت ہوتا ہے جب مفعول بہ اول، اور مفعول بہ ثانی دونوں الگ الگ ہوں،
جیسے:أَعْطَیْتُ زَیدًادِرْہَمًا،(اس مثال میںزَیْدً ااور دِرْھَمًا دونوں الگ الگ ہیں، لہذایہاں أَعْطَیْتُ زَیدًا بھی جائز ہے اور أَعْطَیْتُ دِرْھَمًا بھی جائز ہے۔
(ب) جس میں صرف ایک مفعول بہ پر اکتفا کرنا جائز نہیں ہے،بل کہ دونوں مفعولوں کا ذکر ضروری ہے،
( اصل میں یہ افعال قلوب ہوتے ہیںجومبتدا خبر پر داخل ہو تے ہیں اور دونوں کو مفعول بنا کر نصب دیتے ہیں)

(۳) متعدی بہ سہ مفعول اور وہ یہ ہیں:
أَعْلَمَ،أَرٰی،أَنْبَأَ، أَخَْبَرَ،خَبَّرَ،نَبَّّأَ،حَدَّثَ،
جیسے: أَعْلَمْتُ زَیدًاعَمرًوافَاضِلاً،أَرَیْتَ عَمْرًواخَالِدًا نَائِمًا،
(یہ سب مفعولات، مفعول بہ ہیں۔)
سبق(۸۳)
{افعال قلوب}
افعال قلوب:وہ افعال ہیںجن کا تعلق دل سے ہو،اعضاء وجوارح سے نہ ہو،اوروہ سات ہیں: (۱)عَلِمَ(۲)رَأَیٰ(۳)وَجَدَ(۴)حَسِبَ(۵)ظَنَّ(۶)خَالَ(۷)زَعَمَ
ان میں سے پہلے تین یقین کے لئے آتے ہیں، دوسرے تین شک کے لئے آتے ہیں ، زَعََمَ شک ویقین دونوں میں مشترک ہے۔
مثالیں:(۱)عَلِمْتُ عَمْرًوا أَمِینًا(مجھے عمرو کے امانتدار ہو نے کا یقین ہے)۔
(۲)رَأَیْتُ اللّٰہَ أَحَدًا (میں نے اللہ کے ایک ہو نے کا یقین کیا)۔
(۳)وَجَدْتُّ اللّٰہَ غَفُوْرًا (میں نے اللہ کے غفور ہو نے کا یقین کیا)۔
(۴)حَسِبْتُ زَیدًا فَاضِلاً (میں نے زید کو فاضل گمان کیا) ۔
(۵)خِلْتُ خَالِدًا قَائِمًا (میرا خیال ہے کہ خالدکھڑا ہے) ۔
(۶)ظَنَنْتُ بَکرًا نَائِمًا (میرا گمان ہے کہ بکرسورہا ہے )۔
(۸)زَعَمْتُ زَیْدًا فَائِزًا(برائے شک) (مجھے شک ہے کہ زید کامیاب ہے)
(۷)زَعَمْتُ اللّٰہَ غَفُورًا(برائے یقین)(میں نے اللہ کے غفور ہو نے کا یقین
فائدہ:حَسِبَ،خَالَ،زَعَمَ یہ تینوں افعال ہمیشہ افعال قلوب ہی رہتے ہیں،
بقیہ چارافعال کبھی دوسرے معنی( افعال جوارح) میں بھی استعمال ہو تے ہیں،
اس وقت ان کا ایک ہی مفعول آتا ہے ،جیسے عَلِمَ ،عَرَفَ (پہچاننے) کے معنی میں ، رَأَی أَبْصَرَ (دیکھنے)کے معنی میں ۔
سبق(۸۴)
{افعالِ ناقصہ}
افعال ناقصہ: یہ افعال (باوجود لازم ہونے کے) تنہا فاعل سے تمام نہیں ہوتے بل کہ خبر کے بھی محتاج ہوتے ہیں، ا سی سبب سے ان کو افعال ناقصہ کہتے ہیں ،
یہ جملہ اسمیہ پر داخل ہوتے ہیں مبتدا کو اپنا اسم بنا کر رفع اور خبر کو اپنی خبر بنا کر نصب دیتے ہیں ،یہ سترہ ہیں : کَانَ،صَارَ،أَصْبَحَ، أَمْسٰی،أَضْحٰی،ظَلَّ، بَاتَ،
مَا بَرِحَ،مِادَامَ، مَاانْفَکَّ،مَا فَتِیئَ،مَازَالَ،لَیْسَ،عَادَ،آضَ،رَاحَ، غَدَا،
کَانَ: ماضی کے لئے آتا ہے اگر کان کی خبر اسم ہو تو’’تـــھا‘‘ـ کا ترجمہ کرتے ہیں ، جیسے:کَانَ زَیْدٌ قَائَمًا، زید کھڑا تھا۔
٭کانکی خبر فعل ماضی ہو تو ماضی بعید کا ترجمہ کرتے ہیں ، جیسے:کَانََ زَیْدٌ أَکَلَ زید نے کھایا تھا۔
٭کان کی خبر فعل مضارع ہو تو ماضی استمرا ری کا ترجمہ ہوتا ہے ، جیسے:کَانَ زَیْدٌ یَاکُلُ زید کھاتا تھا۔
صار :حالت کی تبدیلی بتلانے کے لئے آتا ہے، جیسے: صَارَالْوَلَدُ حَافِظاً لڑکا حافظ ہوگیا۔
أصبح ،أمسٰی ،أضحٰی، ظلَّ ،بات: یہ اپنے اسم کے لئے خبر کو مخصوص وقت کے ساتھ ثابت کرتے ہیں، أصبح صبح کے وقت، أمسٰی شام کے وقت، أضحٰی چاشت کے وقت، ظلَّ دن بھر،بات رات بھر کے لئے آتا ہے ۔
٭یہ کبھی صار کے معنی میں بھی ہوتے ہیں،اس صورت میںان میںوقت کے معنی نہ ہوں گے جیسے:ظلَّ زَیْدٌحَافِظاً یہصَارَزَیْدٌحَافِظاً کے معنی میں ہے(زیدحافظ ہوگیا)
ما فَتِیٔ، ماانفَکَّ، ما بَرِح، مازال: اسم کے ساتھ خبر کی ہمیشگی بتلانے کے لئے آتے ہیں ترجمہ ہمیشہ اور برابر سے کرتے ہیں ۔
ما دام: اسم کے لئے خبر کے ثابت رہنے کے زمانہ تک کسی کام کو ثابت کرتا ہے ترجمہ جب تک سے کرتے ہیں
لیس: اسم کے لئے خبر کی نفی کرتا ہے ۔
عاد، آض، راح،غَدَا، :یہ صار کے معنی میں استعما ل ہوتے ہیں۔
مثالیں:(۱)کَانَ زَیدٌ قائمًا (۲)صَارَ الطِّیْنُ خَزَفًا (۳)اَصْبَحَ زَیدٌ غَنِیًّا (۴)اَضْحٰی زَیدٌ حَاکِمًا (۵)اَمْسٰی عَمْرٌوقَائِمًا (۶)ظَلَّ بَکرٌ کَاتِبًا(۷)بَاتَ خَالِدٌ نَائمًا (۸)اِجْلِسْ مَا دَامَ زَیدٌ جَالِسًا (۹)مَا بَرِحَ خَالِدٌ صَائمًا(۱۰)لَیْسَ زَیدٌ قَائمًا۔
فائدہ:افعال ناقصہ میںسے بعض افعال صرف فاعل سے تمام ہوتے ہیں،اس وقت ان کو افعال تامہ کہتے ہیں،جیسے کَانَ الْمَطَرُ (بارش ہوئی)بَاتَ زَیْدٌ (زید نے رات گذاری)

سبق(۸۵)
{افعال مقاربہ و رجاء}
افعال مقاربہ : وہ افعال ہیں جو اسم کے لئے خبر کے قریبی زمانہ میں واقع ہونے پردلالت کرتے ہیں ۔
افعال مقاربہ چار ہیں:(۱)عَسٰی (۲)کَا دَ (۳)کَرَبَ (۴)اَوْشَکَ
یہ افعال جملہ اسمیہ پر داخل ہوتے ہیںاور افعال ناقصہ کی طرح اپنے اسم کو رفع اور خبرکو نصب دیتے ہیں،مگر ان افعال کی خبر صرف فعل مضارع کی شکل میںآتی ہے،اس پر کبھی اَنْ آتا ہے اور کبھی نہیں،
جیسے:عَسٰی زَیْدٌ اَنْ یَّخْرُجَ،یا عَسٰی زَیْدٌ یَّخْرُجُ (قریب ہے کہ زید نکلے) کَادَ الْفَقْرُاَنْ یَّکُوْنَ کُفْرًا( قریب ہے کہ فقر کفر کا سبب ہو) ۔
افعال رجاء:وہ افعال ہیں جو اسم کے لئے خبر کے ثابت ہونے کی امید ظاہر کرتے ہیں، یہ تین ہے: (۱)عَسٰی (۲)حَرٰی(۳) اِخْلَوْلَقَ،
تینوں کا ترجمہ امید ہے سے کرتے ہیں،جیسے:عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَرْحَمَکُمْ (امید ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم کرے) ،
حَرٰی الْمَرِیْضُ اَنْ یَّشْفٰی( امید ہے کہ بیمار شفایاب ہو جائے)
اِخْلَوْلَقَ الْکَسْلَانُ أَنْ یَّجْتَھِدَ (امید ہے کہ سست محنتی بن جائے)

سبق(۸۶)
{افعال شروع و تعجب}
افعال شروع: وہ افعال ہیں جو اسم کے لئے خبر کے ثبوت کے شروع ہو نے پر دلالت کرتے ہیں، یہ بہت سارے ہیں ،ان میں سے چند یہ ہیں ؛
شَرَعَ َ، أَنْشَأَ، أَخَذَ ، جَعَلَ، طَفِقَ، أَقْبَلَ،وغیر ہ
ان سب کا ترجمہ’’ شروع کیا‘‘،’’کرنے لگا ‘‘سے کرتے ہیں۔
أَخَذَتِ الَٔارْضُ تَجُفُّ ( زمین خشک ہونے لگی)
طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْھِمَامِنْ وَّرَقِ الْجَنِّۃِ (وہ دونوںاپنے اوپر جنت کے پتے جوڑنے لگے)
فائدہ:یہ تینوں قسمیں افعال ناقصہ کی طرح جملہ اسمیہ پر داخل ہو کر اپنے اسم کو رفع اور خبر کو نصب دیتے ہیں مگر ان کی خبر صرف فعل مضار ع کی شکل میں آتی ہے،اور کبھی ان تینوں افعال کے مجموعہ کو افعال مقاربہ کہہ دیا جاتا ہے۔
افعال تعجب:وہ افعال ہیںجن کے ذریعہ تعجب کا اظہارکیا جائے ۔
افعال تعجب کے دو صیغے ہر اس ثلاثی مجرد سے آتے ہیں،جن میں رنگ اور عیب کے معنی نہ ہو۔
اول: مَاأَفْعَلَہٗ جیسے: مَا أَحْسَنَ زَیدًا(زید کو کس چیز نے حسین کر دیا)
اس کی اصل یہ ہے أَيُّ شَئٍ أَحْسَنَ زیدًا، ما بمعنی أَيُّ شَئْ ٍ مبتدا ہے محل رفع میں ہے، اورأحسن خبرہے محل رفع میں ہے، اور فاعل أحسن کا ہو اس میں مستتر ہے اور زَیْدًا مفعول بہ ہے۔
ترکیب :ما مبتدا،أحسن فعل ،اس میں ضمیرہو اس کا فاعل، زیدًا مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر ہوئی مبتدا کی، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ انشائیہ ہوا۔
دوم:أَفْعِلْ بِہٖ جیسے :أَحْسِنْ بِزَیْدٍ (زید کس قدر حسین ہے) ،أَحْسِنْ صیغہ امر ہے بمعنی فعل ماضی تقدیر اس کی یہ ہے أَحْسَنَ زَیْد ٌ یعنی صَارَ ذَا حُسْنٍ اور باء زائد ہے۔
فائدہ: ضمیر کی جگہ اس چیز کو لاتے ہیں جس پر حیرت ظاہر کی جاتی ہے،جیسے مثال مذکور میں زید۔
سبق(۸۷)
{افعال مدح وذم}
افعال مدح و ذم:فعل مدح و ہ فعل ہے جس کے ذریعہ کسی کی تعریف کی جائے۔
افعال مدح دو ہیں:(۱) نِعْمَ (۲) حَبَّذَا
فعل ذم وہ فعل ہے جس کے ذریعہ کسی کی برائی کی جائے یہ بھی دو ہیں:
(۱) بِئْسَ(۲) سَآئَ۔
ان افعال کے بعد دو اسم آتے ہیں دونوںہی مرفوع ہوتے ہیں، پہلا اسم ان افعال کا فاعل ہوتا ہے ،دوسرا اسم افعال مدح میں مخصوص با لمدح ،اور افعال ذم میں مخصوص با لذم ہوتاہے، شرط یہ ہے کہ فاعل مُعَرَّفْ بِاللَّامْ ہو، جیسے نِعْمَ الرَّجُلُ عَمْرٌو، یا مُعَرَّفْ بِاللَّامْ کی طرف مضاف ہو جیسے نِعْمَ صَاحِبُ الْعِلْمِ بَکْرٌ، یا فاعل کی ضمیر مستتر ہو جس کی تمیز نکرہ منصوبہ ہو جیسے نِعْمَ رَجُلاً زیدٌ اس مثال میں نِعْمَ کا فاعل ھُوَ نِعْمَمیں مستتر ہے اور رَجُلًا منصوب تمیز ہے کیوں کہ ہُوَ مبہم ہے۔
مثالیں:(۱)بِئْسَ الرَّجُلُ عَمْرٌو(عمرو بہت برا آدمی ہے)(۲)سَائَ الرَّجُلُ زَ یدٌ(زید بہت برا آدمی ہے)(۳)نِعْمَ الرَّجُلُ عَمْرٌو(عمرو بہت اچھا آدمی ہے)(۴)حَبَّذَا زَیدٌ،(زید بہت ا چھاآدمی ہے)۔
ترکیب:نِعْمَ الرَّجُلُ عَمْرٌو:نِعْمَ فعل مدح،الرَّجُلفاعل،فعل فاعل مل کر خبر مقدم ،عَمْرٌومبتدا موخر،مبتدا خبر مل کر جملہ انشائیہ ہوا۔
حَبَّذَا زَیْدٌ:حَبَّفعل مدح،ذا ا سم اشارہ فاعل،فعل فاعل مل کر خبر مقدم ، زَیْدٌ مبتدا موخر،مبتدا خبر مل کر جملہ انشائیہ ہوا۔
بِئْسَ الرَّجُلُ عَمْرٌو:بِئْسَ فعل ذم، الرَّجُلُ فاعل، فعل فاعل مل کر خبر مقدم ، عَمْرٌومبتدا موخر،مبتدا خبر مل کر جملہ انشائیہ ہوا۔



سبق(۸۸)
{ اسمائے عاملہ}
اسمائے عاملہ کی دس قسمیں ہیں:
(۱)اسمائے شرطیہ بمعنی إِنْ (۲)اسمائے افعال بمعنی فعل ماضی،اور بمعنی فعل امر حاضر(۳)اسم فاعل (۴)اسم مفعول (۵)صفت مشبہ (۶)اسم تفضیل (۷)مصدر (۸)اسم مضاف (۹)اسم تام (۱۰)اسمائے کنایہ۔
عربی زبان میں شرط کے لیے دو حروف آتے ہیں: إِنْ اور لَو
(کچھ اسما ء ایسے ہوتے ہیں جن میں کبھی کبھی شرط کے معنی پائے جاتے ہیں، ان کو اسمائے شرطیہ کہتے ہیں ان کی پہچان یہ ہے کہ وہ دو جملوں پر داخل ہوتے ہیں۔)

(۱)اسمائے شرطیہ بمعنی إِنْ ؛ اور وہ نو ہیں :
(مَنْ، مَا ، أَیْنَ ، مَتٰی،أَیٌَّ، أَنّٰی ، إِذْمَا، حَیْثُمَا، مَہْمَا)
یہ فعل مضارع کو جزم دیتے ہیں،جیسے(۱)مَنْ یَعْمَلْ سُوْئً ا ُیجْزَبِہ(۲)مَہْمَا تَقْعُدْ أَقْعُدْ (۳)مَتٰی تَذْہَب أَذْہَبْ(۴) إِذْ مَا تُسَافِرْ أُسَافِرْ(۵)مَاتَفْعَلُوْا ِمنْ خَیْرٍ یَعْلَمْہُ اللّٰہُ(۶)أَیُّہُمْ یَضْرِبْنِي أَضرِبْہُ (۷)حَیْثُمَا تَقْعُدْ أَقْعُدْ(۸)أَنّٰی تَکْتُبْ أَکْتُبْ(۹)أَیْنَمَا تَقْصِدْ أَقْصِدْ
(۲)اسمائے افعال: اسمائے افعال بمعنی فعل ماضی اسم کو رفع دیتے ہیں، فاعل ہونے کی بناء پر،جیسے:ہَیْہَاتَ زَیدٌ،شَتَّانَ زَیدٌ وَعَمْرٌو،سُرْعَانَ عَمْرٌو
(یہ تینوں ماضی کے معنی میں آتے ہیں اور اسم کو بو جہ فاعلیت رفع دیتے ہیں۔)
اسمائے افعال بمعنی فعل امر حاضریہ اسم کو نصب دیتے ہیں مفعول ہونے کی بناء پر ،
جیسے:دُوْنَکَ عَمرًا، بَلْہَ سَعِیدًا،عَلَیْکَ بَکرًا،حَیَّہَلِ الصَلٰوۃَ،
رُوَیْدَ زَیدًا،ہَا خَالدًا
(یہ چھ اسم امر حاضر کے معنی میں آتے ہیں اور اسم کو بو جہ مفعولیت نصب دیتے ہیں۔)

سبق(۸۹)
{ اسم فاعل}
(۳)اسم فاعل:وہ اسم مشتق ہے جو کام کرنے والے پر دلالت کرے ، جیسے ضَارِبٌ مارنے والا،
یہ فعل معروف کا عمل کرتا ہے، یعنی فاعل کو رفع ا ور مفعول بہ کو نصب دیتا ہے،
دو شرطوں کے ساتھ ایک تو یہ کہ اسم فاعل معنی میں حال یا استقبال کے ہو،
دوسرے یہ کہ اس سے پہلے چھ چیزوں میں سے کوئی ایک ہوـ:
(۱)مبتدا ہو، جیسے زَیْدٌ ضَارِبٌ أَبُوْہٗ عَمْرًا
(۲)موصوف ہو، جیسے مَرَرْتُ بِرَجُلٍ ضَارِبٍ أَبُوہُ بَکرًا
(۳) موصول ہو جیسے جَآئَ نِي الضَّارِبُ أَبُوْہُ عَمرًا
( اس مثال میں الف لام اسم موصول کے معنی میں ہے۔)
(۴) ذو الحال ہو جیسے جَآئَ نِي زَیْدٌ رَاکبًا غُلامُہُ فَرَسًا
(۵)ہمزہ استفہام ہو جیسے أَضَارِبٌ زَیدٌ عَمرًا
(۶) حرف نفی ہو جیسے مَا قَائمٌ زَیدٌ
(وہی عمل جو قَامَ یا ضَرَبَ کرتے ہیں، قَائمٌ یا ضَارِبٌ کررہے ہیں۔)
فائدہ:اسم فاعل اکثر اپنے معمول کی طرف مضاف ہوتاہے جیسے إِنَّ اللّٰہَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰی، اَللّٰہُ خَالِقُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ، ہُوَ عَالِمُ الْغَیْبِ ۔

سبق(۹۰)
{ اسم مفعول وصفت مشبہ}
(۴)اسم مفعول :وہ اسم مشتق ہے جو ایسی ذات پردلالت کرے جس پر فاعل کا فعل واقع ہواہو،جیسے مَشْرُوْبٌپیا ہوا، یہ فعل مجہول کا عمل کرتا ہے یعنی مفعول مالم یسم فاعلہ کو رفع دیتا ہے۔

اور اس کے عمل کی بھی دو شرطیں ہیں:اول یہ کہ معنی میں حال یا استقبال کے ہو،دوم یہ کہ اس سے پہلے مبتدا وغیرہ میں سے کوئی ہو،
جیسے (۱)زَیْدٌ مَشْہُوْرٌ أَبُوْہُ (۲)عَمْرٌو مُعطًی غُلَامُہٗ دِرْہَمًا (۳)بَکْرٌ مَعْلُومٌ اِبْنُہٗ فَاضِلاً (۴)خَالِدٌ مُخْبَرٌ اِبْنُہٗ عَمْروًا فَاضِلاً وہی عمل جو ضُرِبَ، أُعْطِیَ، عُلِمَ، أُخْبِرَکرتے تھے مَضْرُوْبٌ ، مُعْطيً، مَعْلُوْمٌ، مُخْبَرٌ کررہے ہیں۔
(۵)صفت مشبہ: وہ اسم مشتق ہے جو اپنے موصوف کی ایسی صفت پر دلالت کرے، جس میں دو ام اورہمیشگی ہو، جیسے : رَحِیْمٌ مہربان،
یہ بھی اپنے فعل کا عمل کرتی ہے ،جیسے زَیدٌ حَسَنٌ غُلَامُہٗ وہی عمل جو حَسُنَ فعل کرتا ہے حَسَنٌ کررہا ہے۔

سبق(۹۱)
{ اسم تفضیل}
(۶)اسم تفضیل: وہ اسم مشتق ہے جو کسی چیز میںمصدری یا وصفی معنی کوکسی کے مقابلہ میںزیادتی کے ساتھ ثابت کرے جیسے أَکْبَرُ سب سے بڑا،
(اسم تفضیل کا عمل اس کے فاعل میں ہوتا ہے اور وہ ضمیرھو ہے جو اس میں مستتر ہے۔)
اس کا استعمال تین طرح سے ہوتا ہے:
(۱) مِنْ کے ساتھ ،جیسے :زَیدٌ أَفْضلُ مِنْ عَمْرٍو ۔
(۲)الف ولام کے ساتھ، جیسے :جَائَ نِي زَیدُنِالأَفْضَلُ۔
(۳) اضافت کے ساتھ ،جیسے: زَیدٌ أَفْضَلُ الْقَومِ۔
٭اسم تفضیل کا استعمال جب مِنْ کے ساتھ ہوتاہے، تو اسم تفضیل ہمیشہ أَفْعَلُ (واحد مذکر )کے وزن پر ہی آتا ہے ۔
٭اسم تفضیل کا استعمال جب الف لام کے ساتھ ہوتاہے،تو اسم تفضیل اپنے ما قبل کے مطابق ہوتا ہے۔
٭اسم تفضیل کا استعمال جب ا ضافت کے ساتھ ہوتاہے تواگر نکرہ کی طرف مضاف ہو،تو اس صورت میں اسم تفضیل ہمیشہ واحد کی شکل میں آئے گا،اور اگر معرفہ کی طرف مضاف ہو تو اختیار ہے مفرد بھی لاسکتے ہیں اورما قبل کے مطابق بھی۔

سبق(۹۲)
{ مصدر،اسم مضاف ،اسم تام}
(۷)مصدر: بشر طیکہ مفعول مطلق نہ ہو، اپنے فعل کا عمل کرتا ہے ،
جیسے:أَعْجَبَنِي ضَرْبُ زَیدٍ عَمرًوا۔
٭مصدراکثر اپنے فاعل کی طرف مضاف ہوکر اس کو جر دیتاہے، اور پھر اس کے مفعول بہ کا ذکر ہوتاہے، جیسے: لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ
(اس مثال میںدَفْعٌ مصدر کا فاعل اَللّٰہہے اور مفعول اَلنَّاسَ ہے)۔
٭ اور کبھی یہ اضافت مفعول کی طرف ہوتی ہے ،جیسے: وَلِلّٰہِ عَلٰی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطََاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلاً
(اس مثال میںحِجُّ مصدر کا فاعل مَنِ اسْتَطََاعَ ہے اور مفعول الْبَیْتِ ہے)۔
(۸)اسم مضاف:یہ مضاف الیہ کو مجرور کرتا ہے، جیسے جَآئَ نِي غُلَامُ زَیدٍ، یہاں حقیقت میں لام مقدر ہے کیوں کہ تقدیر اس کی یہ ہے غُلَامٌ لِزیدٍ۔
(۹)اسم تام: وہ اسم ہے جس کا آخر ایسی حالت میں ہو کہ اس حالت پر باقی رکھتے ہوئے دوسرے اسم کی طرف اس کو مضاف نہ بنایا جاسکے ،
٭اسم تام تمیز کو نصب کرتا ہے۔
اسم کا تام ہونا یا تنوین سے ہوتا ہے جیسے: مَا فِي السَّمَائِ قَدْرُ رَاحَۃٍ سَحَابًا
(آسمان میں ہتھیلی کی بقدر بھی بادل نہیں ہے) ۔
یا تقدیر تنوین سے جیسے: عِنْدِي أَحَدَ عَشَرَ رَجُلاً۔
یا نون تثنیہ سے جیسے :عِنْدِي قَفِیزَانِ بُرّاً۔
یا نون جمع سے جیسے:عِنْدِی طَیِّبُوْنَ تِلْمِیْذًا(میرے پاس اچھے طلبہ ہیں) ۔
یا مشابہ نون جمع سے جیسے: عِنْدِي عِشْرُونَ دِرْہَمًا۔

سبق(۹۳)
{ اسمائے کنایہ}
(۱۰)اسمائے کنایہ: کَمْ، کَذَا۔
کَمْ کی دو قسمیں ہیں:(۱) استفہامیہ (۲) خبریہ
کم استفہامیہ تمیز کو نصب کرتا ہے جیسے:کَمْ رَجُلاً عِنْدَکَ؟
کم خبریہ تمیز کو جر دیتا ہے جیسے:کَمْ مَالٍ اَنْفَقْتُ (میںنے اتناسارا مال خرچ کیا)
َکَمْ دَارٍ بَنَیْتُ (میںنے اتنے سارے گھر بنائے)
کبھی کم خبریہ کی تمیزسے پہلے مِنْجارہ آتا ہے جیسے:کَمْ مِّنْ مَّلَکٍ فِي السَّمٰواتِ (آسمانوںمیں کتنے سارے فرشتے ہیں)۔
کذا بھی تمیز کو نصب کرتا ہے جیسے عِنْدِي کَذَا دِرْہَمًا۔
سبق(۹۴)
{عوامل معنوی }
عامل معنوی:وہ عامل ہے جو ظاہری طور پر لفظوں میں موجود نہ ہو،
اس کی دو قسمیںہیں:
(۱) ابتدا: یعنی اسم کا عوامل لفظی سے خالی ہونا مبتدا کو رفع دیتا ہے،
جیسے: زَیدٌ قَائمٌ۔ اس میں زید مبتدا ہے جو ابتدا سے مرفوع ہے اور قَائمٌ خبربھی ابتدا سے مرفوع ہے،گویا دو نوںمبتدا خبرمیں ابتدا ہی عامل ہے۔
(۲)فعل مضار ع کا عامل ناصب وجازم سے خالی ہونا فعل مضارع کو رفع دیتا ہے، جیسے یَضْرِبُ زَیدٌ یہاں یَضرِبُ مرفوع ہے کیوں کہ عامل ناصب وجازم سے خالی ہے۔
سبق(۹۵)
{ حروف غیر عاملہ}
حروف غیر عاملہ کی سولہ قسمیں ہیں:
(۱)حروف تنبیہ: أَلاَْ، أَمَا ، ہَا: أَلاَْ، أَمَا یہ دونوں حروف جملہ کے شروع میں مخاطب سے غفلت دور کرنے کے لئے آتے ہیں، جیسے: أَلا زَیدٌ قَائِمٌ، أَمَابَکْرٌنَائِمٌ۔
ہَا یہ جملہ اور مفرد دونوں کے شروع میں آتا ہے،جیسے: ہَا أَنَا حَاضِرٌ اور اسم اشارہ ھذا وغیر ہ میں۔
(۲)حروف ایجاب: نَعَمْ ، بَلٰی، أَجَلْ، إِيْ، جَیْرِ، إِنَّ۔
نَعَمْ پہلی بات کی تصدیق کرتا ہے خواہ وہ بات نفی میں ہو یا اثبات میںجیسے کوئی کہے ھَلْ مَا جَآئَ زَیدٌ ؟
تو اس کے جواب میں کہا جائے گا نَعَمْ، یعنی مَا جَآئَ زَیدٌ۔
ایسے ہی جب کہا جائے أَذَہَبَ عَمْرٌو؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے نَعَمْ یعنی ذَہَبَ عَمرٌو۔
بَلٰی منفی کے اثبات کے لئے آتا ہے ، جیسے: أَلَسْتُ بِرَبِّکُم؟ قَالُوا بَلٰی
(کیا میںتمہارا رب نہیں ہوں؟انہوں نے کہاکیوں نہیں،)
یعنی بَلٰی أَنْتَ رَبُّنَا(ہاں ہاں! آپ ہی ہمارے رب ہیں۔)
إِيْ مثل نَعَمْ کے ہے ، لیکن اتنا فرق ہے کہ استفہام کے بعد قسم کے ساتھ آتا ہے جیسے کوئی کہے أَقَامَ زَیْدٌ؟ اس کے جواب میں کہا جائے إِیْ وَاللّٰہِ ہاں اللہ کی قسم۔
أَجَلْ جَیْرِ ِبھی مثل نَعَمْ کے ہیں، لیکن ان کے ساتھ قسم ضروری نہیں،
إِنَّ بھی ایسا ہی ہے لیکن اس کا استعمال کم آتا ہے۔
(۳)حروف تفسیر: وہ حروف ہیں جو گذشتہ بات کی پوشیدگی دور کرنے کے لئے بنائے گئے ہو،اور وہ دو ہیں: أَيْ وأَنْ جیسے:جَآئَ نِي زَیدٌ أَيْ أَبُوکَ اور نَادَیْنَاہُ أَنْ یَّا إِبْرَاہِیْمُ یعنی نَادَیْنَاہُ بِلَفْظٍ ہُوَ قَولُنَا یَا إِبْرَاہِیمُ۔
(۴)حروف مصدریہ: وہ حروف ہیں جو جملہ کو مصدر کے معنی میں کردیتے ہیں ،اور وہ تین ہیں : (۱) مَا(۲) أَنْ(۳) أَنَّ۔
مَا و اَنْفعل کو مصدر کے معنی میں کردیتے ہیں جیسے: ضَاقَتْ عَلَیْھِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ أَیْ بِرُحْبِھَا وَأَعْجَبَنِی أَنْ ضَرَبْتَ أَیْ ضَرْبُکَ ۔
أَنَّ جملہ اسمیہ پر داخل ہوتاہے جیسے: بَلَغَنِی أَنَّ زَیدًا نَائِمٌ أَیْ نَوْمُہُ۔
(۵)حروف تحضیض:تحضیض کے معنی ہیں ابھارنا ا ور رغبت دلانا اور یہ حروف بھی مخاطب کوکسی بات کی رغبت دلانے یا کسی بات پر ابھارنے کے لئے آتے ہیں،یہ چار ہیں:(۱)أَلاَّ (۲) ہَلاّ ( ۳) لَومَا(۴) لَولَا۔
یہ حروف اگر مضارع پر آئیں ،تو اُبھارنا ا ور رغبت دلانا مقصود ہوگا ،جیسے: ہلَاّ تُصَلِّي؟ تو کیوں نماز نہیں پڑھتا؟اور اگر یہ حروف ماضی پر داخل ہوں تو ان سے مخاطب کو ندامت دلانا مقصود ہوتا ہے، جیسے:ہَلَّا صَلَّیْتَ الْعَصْرَ!کیا تو نے ابھی تک عصر کی نماز نہیں پڑھی! اس لئے ان کو حروف تندیم بھی کہتے ہیں۔
(۶)حرف توقع: قَدْ ہے ، یہ حرف فعل ماضی کو ماضی قریب کے معنی میں کر دیتا ہے اور بے شک کے معنی دیتا ہے،جیسے: قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ (بے شک ایمان والے کامیاب ہو ئے)۔
فعل مضارع میںتقلیل کے معنی دیتا ہے جیسے: قَدْ یَجِئُ زَیدٌ زید کبھی کبھی آتا ہے، اور کبھی فعل مضارع میں بھی تکثیر کا فائدہ دیتا ہے،
جیسے: قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَائِ
(ہم آپ کے چہرے کوبار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں)
اور کبھی فعل مضارع میں بھی بے شک کے معنی دیتا ہے،
جیسے: قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُ (بے شک اللہ جانتاہے۔)
(۷)حروف استفہام: اور و ہ دو ہیں: ہَمْزَہ، ہَلْ۔
ہمزہ استفہام وہ حرف ہے جو مشکوک چیز کے بارے میں سوال کرنے کے لیے جملہ کے شروع میں’’ أ ‘‘کی شکل میں آتا ہے۔
یہ دونوں جملہ کے شروع میں آتے ہیں جیسے: أَزَیدٌ قَائِمٌ؟ ہَلْ زَیدٌ قَائِمٌ ؟
فائدہ:استفہام کے لئے جتنے بھی حروف اور اسماء ہیں ،وہ سب جملہ کے شروع میںآتے ہیں۔
(۸)حرف ردع:کَلاَّہے اور یہ اکثر انکار ومنع کے لئے آتا ہے، جیسے کوئی کہے کَفَرَ زَیدٌ، تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کلَاَّ ہرگز نہیں۔
اورکَلَّا حَقًّا یعنی بے شک کے معنی میں بھی آتا ہے جیسے:کَلاَّ سَوْفَ تَعْلَمُونَ (بے شک عنقریب تم جانو گے۔)
(۹)تنوین: اور یہ کئی طرح کی ہوتی ہے جن میں سے دو یہ ہیں:
(۱) تَمَکُّنْ (جو اسم متمکن پر آتی ہے)جیسے: زَیْدٌ
(۲) عوض(جو کسی کلمہ کے بدلہ میں آئے) جیسے :یَومَئِذٍ اورحِیْنَئِذٍ (ا ن کی تنوین کَانَ کَذَا کی عوضٰؒٓٗمیںلائی گئی ہے )
کُلُّ یَّعْمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہ(اس کی تنوین أَحَدٍ مضاف الیہ کے عوض لائی گئی ہے اس لئے کہکُلٌّ لازم الاضافۃ ہے ) ۔
(۱۰)نون تاکید :( نون تاکید دو طرح کا ہوتا ہے ثقیلہ اور خفیفہ ، یہ فعل مضارع کے آخر میں لگتا ہے)جیسے: لَیَضْرِبَنَّ،لَیَضْرِبَنْ۔

(۱۱) لامِ مفتوح:تاکید کے واسطے آتا ہے یہ مبتد اپر بھی آتا ہے اور خبر پر بھی، جیسے:وَلَأَجْرُ الْأٰخِرَۃِ خَیْرٌ،اور إِنَّا لَہ لَحَافِظُوْنَ
(۱۲)حروفِ زیادت:وہ حروف ہیں جن کے حذف کرنے سے اصل معنی میں کوئی خرابی پیدا نہ ہو،اور وہ آٹھ ہیں:
(۱) إِنْ(۲)أَنْ(۳) مَا(۴) لا(۵) مِنْ(۶)کَاف(۷) بَاء (۸) لَاْم۔
مثالیں: مَا إِنْ زَیدٌ قَائِمٌ،فَلَمَّا أَنْ جَائَ الْبَشِیْرُ، إِذَا مَا تَخْرُجْ أَخْرُجْ، مَا جَائَ نِي زَیدٌ وَلَاْ عَمْرٌو،مَا جَائَ نِي مِنْ أَحَدٍ، لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَئٌ،مَا زَیدٌ بِقَائِم، رَدِفَ لَکُمْ۔
(۱۳)حروف شرط: أَمّا، لَوْ ہیں ۔
أَمّاتفسیر کے واسطے آتا ہے ،اور فَاء اس کے جواب میں لانا ضروری ہے،
جیسے: فَمِنْہُمْ شَقِيٌّ وَسَعِیْدٌ، فَأَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ، وَأَمَّاالَّذِینَ سُعِدُوافَفِي الْجَنَّۃِo
لَوْ دوسرے جملہ کی نفی ظاہر کرتا ہے پہلے جملہ کی نفی ہونے کے سبب سے ،
جیسے: لَوکَانَ فِیْہِمَا اٰلِہَۃٌ إِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَاo اگر آسمان وزمین میں کئی خدا ما سوائے اللہ کے ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہوجاتے (مگر چوں کہ کئی خدا نہیں اس لئے تباہ نہیں ہوئے)۔
(۱۴)لَولا: یہ دوسری بات کی نفی کرتا ہے، پہلی بات ہونے کے سبب ،
جیسے: لَولَاعَلِیٌ لَہَلَکَ عُمَرُ اگرعلی نہ ہو تے تو عمر ہلاک ہو جاتے،مگرعلی تھے اس لئے عمر ہلاک نہیں ہوئے۔
(۱۵)مابمعنی ما دام: جیسے: أَقُوْمُ مَا جَلَسَ الْأَمِیرُ میں کھڑا رہوں گا جب تک امیر بیٹھے۔
(۱۶)حروف عطف: دس ہیں:(۱) وَاؤ(۲) فَا (۳) ثُمَّ (۴)حَتیّٰ
(۵) إِمَّا (۶) أَوْ (۷) أَمْ (۸) لا (۹) بَلْ (۱۰) لٰکِنْ۔
عطف کے معنی جوڑنے کے آتے ہیں یہ حروف بھی اپنے بعد والے کلمہ کو اپنے سے پہلے والے کلمہ کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں پہلے والے کلمہ کو معطوف علیہ اور بعد میں آنے والے کلمہ کو معطوف کہتے ہیں۔
تمّت بالخیر













فہرست
سبق نمبر عنوان صفحہ سبق نمبر عنوان صفحہ
۱ علم نحو کی تعریف ۷ ۲۰ ضمیریں ۲۳
۲ کلمہ وکلام ۷ ۲۱ ضمیرمرفوع متصل ۲۳
۳ اسم ۸ ۲۲ ضمیر مرفوع منفصل ۲۴
۴ اسم کی قسمیں ۹ ۲۳ ضمیر منصوب متصل ۲۴
۵ مشتق کی قسمیں ۹ ۲۴ ضمیر منصوب منفصل ۲۵
۶ فعل ۱۰ ۲۵ ضمیر مجرور بحرف جر ۲۵
۷ فعل کی قسمین ۱۰ ۲۶ اسمائے موصولہ ۲۶
۸ علامات فعل ۱۱ ۲۷ اسمائے اشارہ ۲۸
۹ حرف ۱۲ ۲۸ اسمائے اصوات ۲۹
۱۰ مرکب کی قسمیں ۱۳ ۲۹ اسمائے افعال ۲۹
۱۱ مرکب اضافی ۱۴ ۳۰ اسمائے ظروف ۳۰
۱۲ مرکب توصیفی ۱۵ ۳۱ اسمائے کنایات ۳۴
۱۳ جملہ ۱۵ ۳۲ مرکب بنائی ۳۵
۱۴ جملہ کی قسمیں ۱۶ ۳۳ معرفہ نکرہ ۳۵
۱۵ جملہ اسمیہ ،فعلیہ ۱۷ ۳۴ مذکر مؤنث ۳۶
۱۶ جملہ انشائیہ کی قسمیں ۱۹ ۳۵ واحد ،تثنیہ ،جمع ۳۸
۱۷ معرب اور مبنی ۲۰ ۳۶ جمع مکسر و جمع سالم ۳۹
۱۸ اعراب ۲۱ ۳۷ جمع مذکر و مؤنث سالم ۳۹
۱۹ مبنی کے اقسام ۲۲ ۳۸ جمع کی شکلیں ۴۰
۳۹ منصرف غیر منصرف ۴۱ ۶۱ مستثنی ۶۰
۴۰ عدل ۴۲ ۶۲ مستثنی کی قسمیں ۶۱
۴۱ وصف ،تانیث ،معرفہ ۲۳ ۶۳ مستثنی کا اعراب ۶۱
۴۲ عجمہ ۴۳ ۶۴ مجرورات ۶۳
۴۳ جمع ترکیب ۴۳ ۶۵ ندا ،منادی ۶۳
۴۴ وزن فعل الف نون ۴۴ ۶۶ عدد، معدود ۶۵
۴۵ مرفوعات ۴۵ ۶۷ اقسام اسمائے متمکنہ ۶۹
۴۶ فاعل کی شکلیں ۴۶ ۶۸ اعراب کی نو شکلیں ۷۰
۴۷ فاعل کا فعل ۴۷ ۶۹ توابع ۷۳
۴۸ فعل مذکر و مؤنث ۴۸ ۷۰ صفت ۷۴
۴۹ مفعول مالم یسم فاعلہ ۴۸ ۷۱ تاکید ۷۶
۵۰ مبتد ا خبر ۴۹ ۷۲ بدل ۷۸
۵۱ افعال ناقصہ کا اسم ۵۰ ۷۳ عطف بہ حرف ۷۹
۵۲ حروف مشبہ بالفعل کی خبر ۵۱ ۷۴ عطف بیان ۸۰
۵۳ ما ولا کا اسم ۵۱ ۷۵ عوامل لفظی و معنوی ۸۱
۵۴ منصوبات ۵۲ ۷۶ حروف عاملہ در اسم ۸۲
۵۵ مفعول مطلق ۵۳ ۷۷ حروف مشبہ بالفعل ۸۳
۵۶ مفعول لہ ۵۴ ۷۸ ماو لا مشابہ بلیس ۸۴
۵۷ مفعول معہ ۵۵ ۷۹ حروف عاملہ در فعل ۸۵
۵۸ مفعول فیہ ۵۶ ۸۰ أن مقدرہ ۸۶
۵۹ حال ۵۷ ۸۱ حروف جازمہ ۸۷
۶۰ تمیز ۵۹ ۸۲ عمل افعال ۸۸
۸۳ فعل متعدی کی قسمیں ۸۹ ۹۰ اسم فاعل ۹۷
۸۴ افعال قلوب ۹۰ ۹۱ اسم مفعول ۹۸
۸۵ افعال ناقصہ ۹۱ ۹۲ اسم تفضیل ۹۸
۸۶ افعال مقاربہ ۹۲ ۹۳ مصدر،اسم مضاف ۹۹
۸۷ افعال شروع وتعجب ۹۳ ۹۴ اسمائے کنایہ ۱۰۰
۸۸ افعال مدح ذم ۹۵ ۹۵ عوامل معنوی ۱۰۱
۸۹ اسمائے عاملہ ۹۶ ۹۶ حروف غیر عاملہ ۱۰۱